جیسا کہ توریت* باب ۳۲ آیت ۳۵ میں ہے کہ’’ خداوند نے ان کے بچھڑے بنانے کے سبب...... لوگوں پر مری بھیجی۔ ایسا ہی لیکھرام کی بھی تعریف پرستش تک پہنچائی گئی اور مسلمانوں کو ناحق دکھ دیا گیا۔ یہ لوگ خوب اپنے دلوں میں سمجھتے تھے کہ یہ خدا کا فعل ہے پیشگوئی کرنے والے کا منصوبہ نہیں۔ تاہم بار بار فریاد کر کے گورنمنٹ سے اس راقم کے گھر کی تلاشی کرائی اور بہت سابے جا شور ڈال کر گوسالہ پرستوں سے مشابہت پوری کی۔ کوئی کیا جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے پر ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو خدا نے مشابہت بیان فرمائی وہ پوری مشابہت ہے۔ پھر لیکھرام کی نسبت ایک اور الہامی پیشگوئی ہے جو رسالہ برکات الدعا کے ٹائٹل پیج کے اول اور آخر کے ورق پر درج ہے اور یہ پیشگوئی اپریل ۱۸۹۳ء میں یعنی پہلی پیشگوئی سے تین ماہ بعد کی گئی تھی۔ اس پیشگوئی کا مختصر بیان یہ ہے کہ سیّد احمد خان صاحب کے۔ سی۔ ایس۔ آئی نے ایک رسالہ استجابت دعا کے انکار میں لکھا تھا اور اس کا نام رسالہ الدعا والاستجابت رکھا تھا۔ یہ رسالہ سچائی کے بالکل برخلاف تھا اس لئے میں نے اس کے جواب میں رسالہ برکات الدعا لکھا اور اس رسالہ کے لکھنے کے وقت مجھے یہ ضرورت پیش آئی کہ دعا کے قبول ہونے کا سیّد صاحب کے آگے کوئی نمونہ پیش کروں۔ سو خدا کے فضل سے انہیں دنوں میں لیکھرام کے بارے میں میری دعا قبول ہو چکی تھی۔ سو میں نے برکات الدعا کے ٹائٹل پیج میں یہ نمونہ پیش کر دیا۔ برکات الدعا کے پڑھنے والے جب اس رسالہ کو کھولیں گے تو ٹائٹل پیج کے پہلے صفحہ پر ہی جو اندر کا صفحہ ہے رنگین کاغذ پر یہ لکھا ہوا پائیں گے۔ نمونہ دعائے مستجاب اسی وجہ سے اس رسالہ کا نام برکات الدعا رکھا گیا تھا کہ اس میں دعا کی برکتوں کا نمونہ پیش کیا گیا۔ اس صفحہ میں لیکھرام کے حق میں یہ عبارت ہے کہ: ۔میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا کہ معترضوں نے خیال فرمایا ہے (لیکھرام کے متعلق) پیشگوئی کا ماحصل آخرکار یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا معمولی طور پر کوئی درد ہوا یا ہیضہ ہوا اور پھر اصلی حالت صحت کی قائم ہوگئی تو وہ پیشگوئی متصور نہیں ہوگی۔۔۔ پس اس صورت میں مَیں بلاشبہ اس سزا کے لائق ٹھہروں گا جس کا ذکر میں نے کیا ہے لیکن اگر پیشگوئی کا ظہور اس طور سے ہوا جس میں قہر الٰہی کے نشان صاف صاف اور کھلے کھلے طور پر دکھائی دیں تو پھر سمجھو کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے * خروج باب ۳۲ آیت ۳۵۔