میرؔ ے حق میں جو چاہو شائع کرو۔ میری طرف سے اجازت ہے اور میں کچھ خوف نہیں کرتا‘‘۔ اس پر بھی ہماری طرف سے بڑی توقف ہوئی۔ اور نیز یہ باعث ہوا کہ ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر پیشگوئی کی میعاد نہیں کھلی تھی اور لیکھرام کا اصرار تھا کہ میعاد کی قید سے پیشگوئی بتلائی جائے۔ آخر ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ء کو بہت توجہ اور دعا اور تضرع کے بعد معلوم ہوا کہ آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ء سے چھ برس کے درمیان لیکھرام پر عذاب شدید جس کا نتیجہ موت ہے نازل کیا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ عربی الہام بھی ہوا عجْل جَسَدٌ لہ خوار۔ لہ نصبٌ وَ عَذاب۔ یعنی یہ گوسالہ بے جان ہے جس میں سے مہمل آواز آ رہی ہے پس اس کے لئے دکھ کی مار اور عذاب ہے اور اس اشتہار کے صفحہ ۲ اورتین۳ میں یہ عبارت ہے۔ اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ تک آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ء سے کوئی ایسا عذاب جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت ہو (یعنی جو عوارض اور بیماریاں انسان کیلئے طبعی اور معمولی ہیں جن سے انسان کبھی صحت پاتا اور کبھی مرتا ہے ان میں سے نہ ہو) اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو۔ (یعنی الٰہی قہر کے نشان اس میں موجود ہوں) نازل نہ ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے (یعنی میرے صدق اور کذب کا مدار یہی پیشگوئی ہے) اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کیلئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر سولی پر کھینچا جائے۔ ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ء
اس جگہ منصف سوچیں کہ درصورت دروغ نکلنے اس پیشگوئی کے کس ذلت کے اٹھانے کیلئے میں طیار تھا اور اپنے صدق اور کذب کا کس درجہ پر اس پیشگوئی پر حصر کیا گیا تھا۔ پھر وہ لوگ جو خدا کی ہستی کو مانتے اور اس بات کو جانتے ہیں کہ اس کے ارادہ کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے اور ہر ایک جھگڑے کا آخری فیصلہ اس کے ہاتھ سے ہوتا ہے وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ایسا عظیم الشان مقدمہ جس کے نتیجہ کی دو بڑی بھاری قومیں منتظر تھیں وہ خدا کے علم اور ارادہ کے بغیر یونہی اتفاقی طور پر ظہور میں آگیا گویا جو مقدمہ خدا کو سونپا گیا تھا۔ وہ بغیر اس کے جو اس کے فیصلہ کرنے والے فرمان سے مزیّن ہو یونہی اس کی لاعلمی میں داخل دفتر ہوگیا۔ اگر ایسے خیالات بھروسہ کرنے کے لائق ہیں تو پھر تمام نبوتوں کا سلسلہ اور شریعتوں کا تمام نظام یکدفعہ درہم برہم ہو جائے گا۔ کیونکہ جو امر تحدی کے بعد اور اس قدر اصرار کے دعویٰ سے پیچھے دشمن کے مقابل آسمانی گواہی کے طور پر ظہور میں آگیا اور نہایت روشن طور پر مقرر کردہ علامتوں کے موافق اس کا ظہور ہوا۔ اگر وہی بیہودہ اور باطل سمجھا جائے تو پھر کہاں کا مذہب اور کہاں کی خدا کی ہستی بلکہ تمام آسمانی سچائیوں کا