چیزؔ کا سہارا نہیں۔ پھر جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے تو عرش کا اعتراض کرنا کس قدر ظلم ہے آپ عربی سے بے بہرہ ہیں آپ کو مکر کے معنے بھی معلوم نہیں۔ مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا ناجائز امر نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ شریروں کو سزا دینے کیلئے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے۔ لغت دیکھو پھر اعتراض کرو۔ میں اگر بقول آپ کے وید سے امّی ہوں تو کیا حرج ہے کیونکہ میں آپ کے مسلّم اصول کو ہاتھ میں لے کر بحث کرتا ہوں۔ مگر آپ تو اسلام کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں۔ صاف افتراء کرتے ہیں۔ چاہئے تھا کہ عرش پر خدا کا ہونا جس طور سے مانا گیا ہے اول مجھ سے دریافت کرتے پھر اگر گنجائش ہوتی تو اعتراض کرتے اور ایسا ہی مکر کے معنے اول پوچھتے پھر اعتراض کرتے اور نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلاوے۔ والسلام علٰی من اتبع الھدٰی۔ خاکسار میرزا غلام احمد۔ اور وہ معاہدہ جو نشانوں کے دیکھنے کے لئے اس راقم اور لیکھرام کے مابین تحریر پایا تھا اس کا عنوان جو لیکھرام نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا یہ ہے: ’’اوم پرماتمنے نم۔ ہی سچداند سروپ پرماتماست کا پرکاش کر اور است کا ناش کرتا کہ تیری ست وید ودیا سب سنسار میں پرمرت ہووے‘‘۔* پھر بعد اس کے اس طول طویل معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی پیشگوئی لیکھرام کو بتلائی جائے اور وہ سچی نہ ہو تو وہ ہندو مذہب کی سچائی کی دلیل ہوگی اور فریق پیشگوئی کرنے والے پر لازم ہوگا کہ آریہ مذہب کو اختیار کرے یا 3تین سو ساٹھ روپیہ لیکھرام کو دیدے جو پہلے سے شرمپت ساکن قادیان کی دوکان پر جمع کرا دینا ہوگا۔ اور اگر پیشگوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی کی یہ دلیل ہوگی اور پنڈت لیکھرام پر واجب ہوگا کہ مذہب اسلام قبول کرے*۔* پھر بعد اس کے وہ پیشگوئی بتلائی گئی جس کی رو سے ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھرام کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔ لیکن پہلے اس سے جو وہ پیشگوئی لیکھرام پر ظاہر کی جاتی مکرراً بذریعہ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ اگر ان کو پیشگوئی کے ظاہر کرنے سے رنج پہنچے تو اس کو ظاہر نہ کیا جائے۔ مگر لیکھرام نے بڑی شوخی اور دلیری سے جیسا کہ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء میں اس بات کا ذکر ہے ایک کارڈ اپنا دستخطی میری طرف روانہ کیا کہ ’’میں آپ کی پیشگوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں یہ شرط جو لیکھرام اسلام کو قبول کرے یہ اس وقت کی شرط ہے جبکہ کچھ معلوم نہ تھاکہ جو پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اس کا مضمون کیا ہو گا۔ منہ یہ لیکھرام نے پیشگوئی کے انجام کے لئے دعا کی تھی کہ اگر اسلام سچا ہے تو ان کی پیشگوئی سچی نکلے اور اگر ہندو مذہب سچا ہے تو ان کی پیشگوئی جو کریں گے جھوٹی نکلے۔ اب ہم ناظرین سے پوچھتے ہیں کہ اگر اس لیکھرام والی پیشگوئی کو جھوٹی سمجھا جائے تو کس فریق پر اس دعا کا بد اثر پڑے گا۔ منہ