مجھےؔ کوئی نشان نہیں دکھلاتے اور معقول جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ بحث کیلئے یہ صاف طریق اس کے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ وید کی پابندی سے اور اس کی شرتیوں کے حوالہ سے بحث کرے اور ہم قرآن شریف کی پابندی سے اور اس کی آیتوں کے حوالہ سے بحث کریں- پس چونکہ وہ محض جاہل تھا اور یہ بھی اس میں طاقت نہیں تھی کہ ہر ایک مقام میں وید کی شرتی پیش کر سکے۔ اس لئے وہ چالاکی سے ہمارے اصل مطالبہ کو تحریر میں ہی نہیں لاتا تھا۔ ہاں ٹھٹھے اور ہنسی سے بار بار آسمانی نشان مانگتا تھا۔ غرض ہم اس جگہ اپنا آخری خط نقل کر دیتے ہیں جو اس کے آخری رقعہ کے جواب میں لکھا گیا تھا اور وہ یہ ہے:
جناب پنڈت صاحب۔ آپ کا خط میں نے پڑھا۔ آپ یقیناً سمجھیں کہ ہمیں نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے۔ مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے۔ بے جا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔ آپ کی زبان بدزبانی سے رکتی نہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو ربّ العرش خیرالماکرینسے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔ یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلمے ہیں گویا آپ اس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بیباکوں کو تنبیہ کر سکتا ہے۔ باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور مکر کرتا ہے یہ خود آپ کی ناسمجھی ہے۔ مکر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔ جس کا اطلاق خدا پر ناجائز نہیں اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کیلئے آتا ہے۔ کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی
کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں۔ اور ان کی نظر سے وہ امور اس وقت تک مخفی رکھے جاتے ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی قضا و قدر نازل ہو جائے۔ پس اس مخفی کارروائی کے لحاظ سے خدا کا نام ماکر ہے۔ دنیا میں ہزاروں نمونے اس کے پائے جاتے ہیں۔ سو لیکھرام کے معاملہ میں خدا کا مکر یہ ہے کہ اول اسی کے مونہہ سے کہلوایا کہ میں خیر الماکرین سے اپنی نسبت نشان مانگتا ہوں۔ سو اس درخواست میں اس نے ایسا عذاب مانگا جس کے اسباب مخفی ہوں اور ایسا ہی وقوع میں آیا۔ کیونکہ جس شخص کو شدھ کرنے کے لئے اس نے اتوار کا دن مقرر کیا تھا اور اتوار کے دن آریوں کا ایک خوشی کا جلسہ قرار پایا تھا جیسا کہ عید کا دن ہوتا ہے۔ تا اس شخص کو شدھ کیا جائے۔ سو وہی خوشی کے اسباب اس کیلئے اور اس کی قوم کیلئے ماتم کے اسباب ہوگئے اور خیرالماکرین کے نام کو خدا تعالیٰ نے تمام آریوں کو خوب سمجھا دیا۔ منہ