ہو سکتے تھے ہم نے پہلے سے بیانات مذکورہ بالا میں ان کو رد کر دیا ہے اور شاید آئندہ بھی کچھ کچھ لکھا جائے اب ہم ان تمہیدی امور کو یہاں تک لکھ کر اول پنڈت لیکھرام کے ان خطوط اور خلاصہ عہدنامہ کو معہ جواب خود درج کرتے ہیں جو اس پیشگوئی سے پہلے بطور باہمی خط و کتابت ظہور میں آئے اور وہ یہ ہیں:
خط از طرف پنڈت لیکھرام۔ ’’بخدمت فیض درجت مرزا صاحب۔ نمستے۔ جب سے میں یہاں (قادیان میں) آیا ہوں بہت سی خط و کتابت باہمی ہو چکی ہے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اب چونکہ مجھے بخیال احقاق حق کوئی عمدہ فیصلہ کرنا ضروری ہے اس واسطے متصدعہ خدمت ہوں کہ آج دن کو کوئی وقت مقرر فرما کر مدرسہ میں آپ تشریف لاویں یا کوئی اور جگہ علاوہ دولت خانہ خود تجویز کر کے مطلع فرماویں تاکہ بندہ حاضر ہو کرمعہ بھائی کشن سنگھ و حکیم دیارام و پنڈت نہال چند جی کے آسمانی نشانات و الہامات و بحث کی بابت آپ سے کچھ فیصلہ کرلیوے۔ ورنہ آپ بخوبی یاد رکھیں کہ اب میری طرف سے اتمام حجت ہوگئی۔ صداقت کے مقابلہ سے منہ چرانا عقل مندوں سے بعید ہے۔ زیادہ نیاز۔ طالب حق لیکھرام۔ ۵؍ دسمبر ۱۸۸۵ء‘‘۔
دوسرا خط پنڈت لیکھرام۔ عنایت فرمائے بندہ جناب مرزا صاحب نمستے۔ زبانی بھائی کشن سنگھ کے مجمل و زبانی مولوی دین محمد و محمد عمر کے مفصل طور پر آپ کا پیغام بجواب میرے خط کے بدین مضمون پہنچا کہ آریہ دھرم و مذہب اسلام کے دو تین مسائل پر بحث کی جاوے اور قواعد مباحثہ حسب پسند فریقین مقرر کئے جاویں۔ پس بجواب اس کے متصدعہ خدمت ہوں کہ میرا مدعا پشاور سے چل کر قادیان میں آنے سے صرف یہی تھا اور اب تک بھی اسی امید پر یہاں مقیم ہوں کہ آپ کے معجزات و خرق عادات و کرامات و الہامات و آسمانی نشانات کی تصدیق کر کے مشاہدہ کروں اور پیشتر اس سے کہ کسی اور اصول پر بحث کی جاوے یہی معاملہ ایک خاص معزز لوگوں کی مجلس میں بخوبی طے ہو جانا چاہئے۔ اور اگر اس کے اثبات کرنے میں آپ عاری ہوکر پہلو تہی فرماویں تو اور بحث سے بھی مجھے کسی طرح کا انکار نہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے معتقدوں کے سامنے ثبوت کر دینا اور بات ہے اور مجلس علماء و فضلاء میں تصدیق ہونا اور چیز ہے۔ امید کہ آپ جواب باصواب سے سرفراز فرمائیں اور عذر معذرت درمیان نہ لاویں۔ نیاز مند لیکھرام از آریہ سماج قادیان۔ مکرر سہ کرر آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ اگر ذرہ بھی آثار صداقت رکھتے ہو تو دکھلائیے ورنہ خدا کے واسطے باز آئیے۔ بررسولاں بلاغ باشد وبس۔ لیکھرام‘‘
تیسرا خط پنڈت لیکھرام۔ ’’مرزا صاحب بندگی۔ مجھے طول طویل الف لیلہ کے فسانوں سے نفرت ہے۔ اس واسطے تکرار الفاظ سے بھی خط کو لمبا کرنا نہیں چاہتا ہوں۔ خلاصہ عرض خدمت ہے