کہؔ وہی شرائط (نشان الٰہی کے دیکھنے کے بارے میں) جو میں نے طیار کر کے ارسال کئے تھے جن کی نقل آپ کے پاس موجود ہے معہ شرائط خود کے چار منصفوں کے پاس روانہ ہونی چاہئے جو منصفوں سے طے ہوکر آوے۔ ان پر ہم ہر دو کو عمل کرنا چاہئے۔ کسی حکیم کا قول ہے کہ یکے درگیر و محکم گیر۔ میرا اس پر عمل ہے مگر افسوس کہ آپ کسی بات پر ٹھہرتے نظر نہیں آتے۔ اے بھائی یہ تو ضرور ہوگا (کہ نشان آسمانی کے صدق یا کذب ظاہر ہونے کے وقت) اگر میرے واسطے دین محمدی کی شرط ہے تو آپ کے واسطے آریہ دھرم بھی ضروری ہے۔ بصورت ثانی عوض تین سو 3 روپیہ ہوگا۔ اگر خداوند کریم نے صداقت کی فتح کی تو روپیہ لے لوں گا۔ ورنہ آپ کا روپیہ آپ کے حوالہ اور میری محنت برباد اور آپ کی آمدنیات کی ترقی ہم خرما و ہم ثواب۔ آپ کے تو بہر طرح پانچوں گھی میں ہیں گھبراتے کیوں ہو۔۔۔ آپ کامجیب* الدعوات ہونے کا دعویٰ ہے۔۔۔ اور اگر اسی طرح زبانی جمع خرچ کرنا منظور خاطر ہے تو خوب مزہ ہے۔ خیالی پلاؤ پکائیے اور تمام دنیا میں کسی کو خاطر شریف میں نہ لائیے۔ آپ کا اختیار ہے دست خود زبان خود۔ مجھے آج یہاں آئے پچیس۲۵ یوم کا عرصہ گذر گیا۔ میں کل پرسوں تک جانے والا ہوں۔ اگر کچھ بحث کرنی ہے تو بھی اور اگر شرائط (یعنی نشان دکھلانے کا عہد نامہ) منصفوں کے پاس روانہ کرنا ہے تو بھی طے فرمائیے۔ ورنہ بعدزاں یاروں میں لاف و گزاف کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ لیکن بہت بہتر ہوگا کہ آج ہی مدرسہ کے میدان میں تشریف لاویں۔ شیطان و شفاعت و شق القمر کا ثبوت دیں۔ انتظامی منصف بھی مقرر کرلیجئے۔ میری طرف سے مرزا امام الدین صاحب منصف تصور فرماویں۔ اگر اس پر بھی آپ کو قناعت نہیں ہے تو خدا کے واسطے باز آئیے۔ نیاز مند لیکھرام۔ ۱۳؍ دسمبر ۱۸۸۵ء‘‘۔
چوتھا خط۔ ’’جناب مرزا صاحب نمستے۔ آپ کا دو ورقی مراسلہ ورود ہوا۔ جس سے صاف طور پر واضح ہوا کہ قرآن شریف محض ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ و محمدؐ و یوسف و لوط و سکندر و لقمان کے قصہ جات و فضولیات
اس مجیب الدعوات کے لفظ سے لیکھرام کی عربی دانی نہایت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے جس بچہ نے پہلا قاعدہ صرف عربی کا ابھی پڑھا ہو گا وہ جانتا ہے کہ مجیب کا لفظ خدا تعالیٰ کے لئے آتا ہے یعنی دعاوں کا قبول کرنے والا۔ یہ باب افعال سے فاعل کا صیغہ ہے پس لیکھرام کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ کو مستجاب الدعوات ہونے کا دعویٰ ہوئے ہیں۔ اب غور کرو کہ آریہ صاحبوں کا کس قدر جھوٹ ہے کہ لیکھرام کو عربی بھی آتی تھی۔ یہ اس کے ہاتھ کے خط لکھے ہوئے ہیں جو اس جگہ درج کئے جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ شخص دونوں زبانوں سے بے نصیب تھا نہ سنسکرت جانتا تھا نہ عربی۔ اور جھوٹ بولنے والے کی ہم زبان بند نہیں کر سکتے۔ منہ