میں پیدا ہوتے ہیں جن کے دل خدا کی سچی معرفت سے بے نصیب ہیں وہ خدا کے کاموں سے حیرت زدہ ہوکر انکار کرنے کی طرف جھک جاتے ہیں اور واقعات کو اس پہلو کی طرف کھینچ لیتے ہیں جس پہلو تک ان کے موٹے اور سطحی خیال ٹھہر گئے ہیں اور اسی پر وہ زور دیتے رہتے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر لیکھرام اتفاقی طور پر بذریعہ قتل مرگیا تو اس طور پر بھی تو اتفاقی امر کا واقعہ ہونا ممکن تھا کہ کوئی شخص اس کی نسبت ارادہ قتل کا نہ کرتا۔ یا اگر کرتا تو اپنے ارادہ میں ناکام رہتا یا اگر کسی قدر حملہ کرتا تو ممکن تھا کہ اس سے موت تک نوبت نہ پہنچتی۔ پھر کیا سبب کہ دوسرے پہلوؤں کے تمام اتفاقات ممکنہ ظہور میں نہ آئے اور یہ اتفاق جو ان پہلوؤں کی نسبت اپنے ساتھ مشکلات بھی رکھتا تھا ظہور میں آگیا۔ کیا یہ خدا نے کیایا کسی اور نے؟ پس وہ علیم و سمیع خدا جس کے انصاف پر فریقین نے اس مقدمہ کو چھوڑا تھا اور جس کی نسبت ایک فریق نے خبر بھی دی تھی کہ اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ میں ایسا ہی کروں گا کیوں اس کی نسبت یہ گمان کیا جائے کہ اس نے منصفانہ فیصلہ نہیں دیا۔ اور کیوں ایسا سمجھا جائے کہ اس نے مفتری کی حمایت کی۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ خدا کی یہ بھی عادت ہے کہ وہ ایسے جھوٹے کی پیشگوئیاں بھی سچی کر دیتا ہے جن پیشگوئیوں کو وہ اپنے صدق کی وجہ ثبوت ٹھہراتا ہے۔ تو گویا خدا کا عمداً یہ ارادہ ہے کہ جھوٹوں کو سچوں کے ساتھ برابرکر کے سچ کے تمام سلسلہ کو تباہ اور زیر و زبر کردے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ خدا صادق کا حامی ہوتا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے نہ افتراؤں کو تو اس اصول کو ماننا ایک منصف کیلئے ضروری ہوگا کہ جو پیشگوئی خدا کے نام پر کی جائے اور وہ پوری ہو جائے تو وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اور اگر اس اصول کو نہ مانا جائے تو خدا کی ساری کتابیں بے دلیل رہ جائیں گی اور ان کی سچائی پر یقین کرنے کی راہیں بند ہو جائیں گی۔ اسی کی طرف خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے 3 3 ۱؂ یعنی صادق کی یہ نشانی ہے کہ اس کی بعض پیشگوئیاں پوری ہو جاتی ہیں۔ بعض کی شرط اس لئے لگا دی کہ وعید کی پیشگوئیوں میں رجوع اور توبہ کی حالت میں عذاب کا تخلف جائز ہے گو کوئی بھی شرط نہ ہو۔ پس ممکن ہے کہ بعض عذاب کی پیشگوئیاں ملتوی رکھی جائیں اور اپنی میعاد کے اندر پوری نہ ہوں۔ جیسا کہ یونس کی قوم کیلئے ہوا۔ غرض خدا کے نام پر جو پیشگوئی پوری ہو جائے اس کی نسبت شک کرنا اور اس کو اتفاق پر محمول کر دینا گویا خدا تعالیٰ کے دینی انتظام پر ایک حملہ ہے اور نبوت کی تمام عمارت کو گرانے کاارادہ ہے۔ ان تمہیدی امور کو یہاں تک درج کر کے اب ہم ان سلسلہ وار الہامی شہادتوں کو پیش کرتے ہیں جن کا دریافت کرنا فتویٰ دینے سے پہلے اہم اور ضروری ہے۔ اور ان شہادتوں پر جو سوالات جرح