اصراؔ ر سے لکھوائی تھی اور چونکہ مجھے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر وثوق تھا اس لئے میں نے بھی اس کو قبول کرلیا تھا۔ اب وہ مشکل جس کیلئے اس استفتاء کی ضرورت پڑی صرف اسی قدر نہیں کہ آریہ صاحبوں نے اس راقم پر خفیہ سازش کا الزام لگایا۔ بلکہ ہماری قوم کے بعض بزرگ لوگوں نے بھی ان سے اتفاق کرلیا اور یہ چاہا کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی جس کی تکذیب کا نتیجہ معاہدہ کے کاغذات کے رو سے اسلام کی تکذیب ہے کسی طرح باطل ٹھہرائی جائے۔ چنانچہ مولوی ابوسعید محمدحسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃاور ایسا ہی بعض چند اور مولویوں نے عام طور پر یہ رائے شائع کر دی ہے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ چنانچہ انہوں نے ایک خط میری طرف بھی بھیج دیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’’میں نے اپنی نیک نیتی سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی یعنی لیکھرام کی موت صرف ایک اتفاقی امر تھا جس میں خدا کا کچھ دخل نہیں‘‘ اور اس بات پر زور دیا کہ کیوں یہ امر ثابت شدہ مان لیا جائے کہ پیشگوئی سچی ہوئی۔ اور کیوں یہ قبول نہ کیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی موت ہے جو پیشگوئی کے زمانہ میں وقوع میں آگئی۔
اس تکذیب کی ہمیں اپنے ذاتی اغراض کیلئے تو کچھ پرواہ نہ تھی لیکن چونکہ معاہدہ کے کاغذات تلاشی کے وقت میں پکڑے گئے اور صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے حضور میں پڑھے گئے اور ہر ایک دشمن دوست کو ان سے اطلاع ہوگئی۔ تو اب ایسی سچائی جس میں فروگذاشت کرنے سے اسلام پر بے جا حملہ ہوتا ہے قابل درگذر نہیں۔ اسی اشد ضرورت کی وجہ سے یہ تمام روئداد اہل الرائے کی خدمت میں پیش کرنی پڑی۔ تاکہ وہ دیکھیں کہ کس قدر ظلم کا ارادہ کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے ان خیالات کے ظاہر کرنے کے وقت یہ نہیں سوچا کہ ان تاویلوں سے دنیا میں کسی نبی کی پیشگوئی قائم نہیں رہے گی کیونکہ ہر ایک جگہ اس وہم کا دروازہ کھلا ہے کہ یہ اتفاقی واقعہ ہے۔ پس اگر یہی رائے سچی ہے تو انہیں اقرار کرنا چاہئے کہ تمام نبیوں کی نبوت پر کوئی بھی ثبوت نہیں اور سب اتفاقی واقعات ہیں۔
توریت اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیشگوئی کو قرار دیا ہے اور ایک مفسد آدمی کسی سچی پیشگوئی کو بڑی آسانی سے اتفاقی امر کہہ سکتا ہے لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ تمام شبہات اس قسم کے ہیں کہ جیسے ایک دہریہ مصنوعات کو ایک نکما سلسلہ ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کے وجود کی نسبت شبہات پیدا کرلیتا ہے اور دنیا کے تمام نظام کو اتفاقی امر ٹھہراتا ہے اور پھر جب سمجھ آتی ہے اور خدا کا فضل اس کے شامل حال ہوتا ہے اور اس عالم کی ترتیب ابلغ اور محکم کو مشاہدہ کرتا ہے اور دقائق صنعت باری اور اس کی لطیف حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے تو ناچار پہلی رائے اس کو چھوڑنی پڑتی ہے۔ سو یقیناً سمجھنا چاہئے کہ یہ اعتراضات بھی ایسے ہی ہیں اور یہ اعتراضات اسی وقت تک دل میں اٹھتے ہیں کہ جب تک ایک پیشگوئی کے باریک پہلوؤں پر نظر نہیں پڑتی اور خدا تعالیٰ کی خدائی کے انتظام کو ناقص سمجھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسے شبہے ہمیشہ ان لوگوں کے دلوؔ ں