بس یہی کہؔ جو کچھ ہم ایک مرتب اور مکمل سلسلہ پیشگوئیوں کا لیکھرام کی موت کے بارے میں ان کے سامنے رکھتے ہیں وہ اس پر پوری توجہ کے ساتھ فتویٰ کے طورپر رائے لکھیں اور اپنے پاک کانشنس کے جوش سے شہادت دیں کہ کیا عقل اور دیانت واجب نہیں ٹھہراتی کہ اس الہامی سلسلہ کے فوق العادۃ بیان کو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے؟ اور کیا ایک عقلمند کے ذہن میں آسکتا ہے کہ پیشگوئی کی یہ تمام شاخیں جو بشری طاقتوں سے بڑھ کر ہیں جھوٹ کی تائید میں یکدفعہ پھوٹ پڑیں؟ اس وقت یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آریہ صاحبوں کے ہاتھ میں اس پیشگوئی کی تکذیب کیلئے جو کچھ ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ انہوں نے بجائے اس کے کہ خدا کے عجیب کاموں پر غور کرتے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ بدظنی کی وجہ سے انسانی منصوبوں کے احتمال کو وہ درجہ دیا ہے جو خدائے قادر کے کاموں سے مخصوص ہے۔ چونکہ یہ پیشگوئی چار برس سے کچھ زیادہ کی تھی اور کئی مجلسوں کی تقریروں اور نیز تحریروں سے ہندوؤں تک یہ بات پہنچ گئی تھی کہ پیشگوئی میں یہ لکھا گیا ہے کہ ہیبت ناک طورپر لیکھرام کی زندگی کا خاتمہ ہوگا۔ اور نیز یہ کہ عید کے دنوں میں اس کی وفات ہوگی اور چھ سال کے اندر ہوگی۔ اور پیشگوئی اپنے صریح لفظوں میں واقعہ قتل کی طرف اشارہ کرتی تھی اس لئے انہوں نے اس بات کو بہت بعید سمجھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی پیشگوئی ایسے صریح پتوں اور نشانوں کے ساتھ ہو۔ مگر اس بات کو قرین قیاس خیال نہ کیا کہ قبل از وقت یہ تمام غیب کی باتیں کوئی انسان اپنے منہ سے نکالے اور پھر ویسی ہی پوری کرکے دکھلا دیوے لہٰذا انہوں نے اس الہامی پیشگوئی کو انسانی منصوبہ پر حمل کرلیا اور بڑے اصرار سے بار بار اخباروں میں چھاپا کہ ایسی صفائی سے پیشگوئی کرنا اور ایسے کھلے کھلے اور بے حجاب طریق سے تاریخ اور دن اور صورت موت کو قبل از وقت بیان کرنا خدا کا قانون نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ یہی شخص یعنی یہ راقم لیکھرام کا قاتل ہے اور یہ پیشگوئی عمیق سازشوں اور مدت کی سوچی ہوئی تدبیروں کا نتیجہ ہے۔ اسی بناء پر انہوں نے باہمی اتفاق کے ساتھ اس راقم کو ملزم بنانے کیلئے زور دیا اور اس خیال کے اظہار میں اخباروں کے کالم کے کالم سیاہ کر ڈالے اور گورنمنٹ میں مخبریاں کیں یہاں تک کہ ۸۔ اپریل ۱۸۹۷ء کو بروز پنجشنبہ انگریزی افسروں نے قادیان میں آکر میرے گھر کی تلاشی لی۔ تلاشی کے وقت میں خطوط دستخطی پنڈت لیکھرام برآمد ہوئے اور نیز وہ معاہدہ کا کاغذ بھی نکل آیا جس میں آسمانی نشانوں کے دکھلانے کے بارے میں شرطیں قائم ہوکر دونوں فریق کی رضامندی سے سچی پیشگوئی کو معیار صدق و کذب ٹھہرایا گیا تھا۔ چنانچہ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے حضور میں وہ کاغذ پڑھا گیا جسکا یہ مضمون تھا کہ جو پیشگوئی لیکھرام کے حق میں کی جائے گی وہ دین اسلام اور آریہ مذہب میں ایک فیصلہ ناطق ہوگی۔ اگر پیشگوئی سچی نکلی تو وہ دین اسلام کی سچائی کی گواہ ہوگی اور ہندو مذہب کے بطلان پر دلیل ٹھہرے گی اور اگر جھوٹی نکلی تو وہ ہندو مذہب کی سچائی پر گواہ ہوگی اور نعوذباللہ دین اسلام کے بطلان پر دلالت کرے گی۔ اور یہ شرط پنڈت لیکھرام نے اپنے