نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم اِستِفتاء کیا فرماتے ہیں بزرگان اہل النظر و اہل الرائے کہ یہ الہامی شہادتیں جو ذیل میں لکھی جاتی ہیں ان پر نظر ڈالنے سے اطمینان کے لائق یہ نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں کہ جو پیشگوئی لیکھرام کی موت کی نسبت کی گئی تھی وہ واقعی طورپر پوری ہوگئی؟ اگر ان کی رائے میں پورے یقین اور اطمینان کے ساتھ نیچے لکھی ہوئی پیشگوئیوں سے جو بطور وثیقہ شہادت ہیں کمال صفائی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ تحریریں انسانی اٹکلوں اور منصوبوں سے برتر اور فوق العادۃ ہیں تو محض للہ سچائی کی مدد کے لئے جو جوان مردوں اور بہادروں اور خدا ترس بندوں کا کام ہے بغرضِ تصدیق اس مضمون کے ذیل میں اپنی گواہی ثبت کریں۔ مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو اس سچی گواہی کا اجر دے گا اور دنیا اور دین کی عافیت اور کامیابی سے کامل حصہ عطا فرمائے گا۔ ورنہ شہادت حقہ کے چھپانے کے جو برے نتائج ہیں ان کا ظہور بھی قانون الٰہی کے رو سے لازمی ہے۔ لیکن اگر کسی کے نزدیک مندرجہ ذیل الہامی شہادتیں اطمینان کے لائق نہیں بلکہ ان کے خیال میں دراصل انسانی منصوبہ تھا جو الہامی پیشگوئی کے نام سے مشتہر کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر اسی پختہ سازش کی وجہ سے لیکھرام چھ۶ مارچ ۱۸۹۷ء کو بمقام لاہور مارا گیا تو اسے اختیار ہے کہ اس کاغذ پر اپنی گواہی ثبت نہ کرے اور مجھے قاتلوں میں سے شمار کرتا رہے۔ لیکن اگر اس کے نزدیک یہ الہامی شہادتیں وزن کے قابل ہیں جن سے ہم فائدہ اٹھانے کے مستحق ہیں تو دینی ہمدردی کا اس وقت ہم کوئی مطالبہ نہیں کرتے مگر انسانی ہمدردی اور وہ بھی ٹھیک ٹھیک انصاف کی رو سے جس قدر قانون ہمیں حق بخشتا ہے اس کو ہم ادب کے ساتھ اہل الرائے سے بطور استفتاء مانگتے ہیں۔ ہم اس استفتاء کے ذریعہ سے اہل نظر سے کیا چاہتے ہیں؟