یہ پیشگوئی مارچ ۱۸۹۷ء کے مہینہ سے جس میں لیکھرام قتل ہوا ہے ۱۷ برس پہلے ہماری کتاب براہین احمدیہ کے ایک الہام میں بڑی صفائی سے ذکر کی گئی ہے اور براہین کی تالیف کا وہ زمانہ تھا کہ شاید اس وقت لیکھرام ۱۲ یا۱۳ برس کا ہوگا۔ یہی وہ بات ہے جس کو خوب غور سے سوچنا چاہئے اور یہی وہ امر ہے جس سے معرفت کی ترقی ہوگی اور خدا کے فعل اور انسان کے فعل میں کھلا کھلا فرق دکھائی دے گا اور دل میں سکینت اور اطمینان پیدا ہو جائیں گے اور غالباً اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی مفید ہوگا۔ کہ میں نے ابھی تک ایک دوسرے رسالہ میں جس کا نام سراج منیر ہے اپنی بریّت اور سچائی ثابت کرنے کے لئے ایک اور سلسلہ گواہ کی طرح پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے وہ تمام پیشگوئیاں جو لیکھرام کے مرنے سے پہلے پوری ہو چکی تھیں رسالہ مذکورہ میں جمع کر کے لکھ دی ہیں اور نہایت لطیف طور پر ان کا نظام دکھلایا ہے۔ ان پیشگوئیوں کے بعض ایسے آریہ بھی گواہ ہیں جن کے بارے میں یہ پیشگوئیاں کی گئی تھیں سو میرے نزدیک بہتر ہوگا کہ جو صاحب اپنی رائے لکھنے کے وقت سراج منیر کا دیکھنا مناسب سمجھیں وہ مجھ سے طلب کریں میں وہ رسالہ ان کی خدمت میں روانہ کر دوں گا اور یہ بات بھی بیان کر دینے کے قابل ہے کہ جیسا کہ آریوں کو اس پیشگوئی کے بارے میں ناحق کے شبہات ہیں جن کی وجہ بجز اسکے کچھ نہیں کہ پیشگوئی کی عظمت نے ان کو حیرت میں ڈال دیا ہے ایسا ہی ہمارے مخالف مولوی بھی جو روحانیت سے بے بہرہ ہیں اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں سو ان کیلئے بھی یہ رسالہ مفید ہوگا بشرطیکہ وہ غور سے پڑھیں۔ اور یہ رسالہ اس چٹھی کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے کہ آپ رسالہ کے وجوہات پیش کردہ پر غور کر کے اپنے دلی انصاف کے تقاضا سے وہ فتویٰ لکھیں جس کا لکھنا وجوہات معروضہ کی رو سے واجب ہو۔ یعنی یہ کہ لیکھرام کے مرنے کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی کیا وہ فی الواقعہ پوری ہوگئی یا نہیں اور کیا وہ اس اعلیٰ درجہ فوق العادت پر ہے یا نہیں جس کی نسبت وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہ وہ انسانی منصوبہ ہے اور نہ اتفاقی امر ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا وہ خاص فعل ہے جس کو الہامی پیشگوئی کہنا چاہئے۔ والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔ راقم غلام احمد قادیانی ۸؍ ذی الحجہ ۱۳۱۴ ؁ھ مکرر آنکہ جو صاحب بغرض تصدیق نشان لیکھرام والی پیشگوئی کے اپنی گواہی نقشہ منسلکہ پر کرنا نہ چاہیں انہیں لازم ہوگا کہ یہ رسالہ استفتاء معہ اس چٹھی کے واپس کریں۔