صاحب من! میں اس چٹھی کے ہمراہ آپ کی خدمت میں ایک رسالہ بھیجتا ہوں جس کا نام استفتاء ہے اس رسالہ کے لکھنے کی ضرورت یہ ہوئی ہے کہ آریہ قوم نے حد سے زیادہ اس بات پر زور دیا ہے کہ لیکھرام اس شخص یعنی اس راقم کی سازش سے قتل ہوا ہے اور میری دانست میں وہ کسی قدر معذور بھی ہیں کیونکہ الہامی پیشگوئیوں کے فوق العادت طریق سے بالکل بے خبر ہیں۔ وجہ یہ کہ ان کے عقیدہ کی رو سے ہزار ہا برس سے الہام الٰہی پر مہر لگ چکی ہے اور خدا کا کلام آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ اس لئے وہ کسی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ خدا کی طرف سے ایسی پیشگوئیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ بہرحال ہمارے ہاتھ میں جو اپنی بریت کے وجوہ ہیں ان کا بیان کر دینا نہ صرف لیکھرام کے حامیوں کے شبہات کو مٹانا ہے بلکہ ایسے لوگوں کے معلومات کو بھی وسیع کرتا ہے جو اس زمانہ میں کسی الہامی پیشگوئی کے نفس مفہوم پر بھی اعتراض رکھتے ہیں اور غیب کی باتوں کو قبل از وقت بیان کرنا قانون قدرت کے خلاف خیال کرتے ہیں۔ غالباً یہ رسالہ ان لوگوں کے لئے بھی دلچسپ اور موجب زیادت علم ہوگا جو دلی شوق کے ساتھ اس بات کی تفتیش میں ہیں کہ کیا خدا حقیقت میں موجود ہے اور کیا وہ قبل از وقت کسی پر غیب کی باتیں ظاہر کر سکتا ہے۔ اسی غرض سے اس رسالہ میں تمام ایسے وجوہ بیان کئے گئے ہیں کہ جو بخوبی ثابت کرتے ہیں کہ وہ پیشگوئی جو لیکھرام کے بارے میں کی گئی تھی وہ واقعی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ اور کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ وہ انسان کا منصوبہ ہو یا انسان اس پر قادر ہو سکے۔ اور اس بات کو ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی درخواست لیکھرام نے خود کی تھی اور اس کو اسلام اور آریہ مذہب کے امتحان صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ اور پھر بعد اس کے فریقین کی باہمی رضامندی سے دونوں فریق نے بڑے زورسے اس پیشگوئی کو شائع کیا تھا۔ اور جس طرح پہلوانوں کی کشتی ہوتی ہے اسی طرح دونوں گروہ کا اس پیشگوئی پر خیال لگا ہوا تھا۔ آخر بڑی صفائی سے یہ پوری ہوئی۔ اس پیشگوئی میں ایک بات نہایت عجیب ہے جس کو میں نے زبردست دلائل کے ساتھ اس رسالہ میں بیان کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ