قُلْ عِنْدی شَھادۃ مِّن اللّٰہ فھَل انتم مُسْلِمُوْن ۔ اِنَّ مَعِیَ رَبّی
سَیَھْدِیْن ۔ قُلْ اِنْ کُنتُم تحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنی یُحبِبکُمُ اللّٰہ ۔ ھَلْ
اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تنزّل الشیَاطِین تنزل عَلٰی کلّ اَفَّاکٍ اثیم۔ یُریدُونَ
اَنْ یُّطفِءُوا نورَ اللّٰہِ باَفْواھِھِمْ وَاللّٰہ مُتِم نُورِہٖ ولو کرِہَ الکافِرُوْنَ
سَنلقی فی قلوبھمُ الرُّعبَ۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالفتح وَانتھی اَمر الزَمَانِ
اِلینَا الیسَ ھٰذا بِالحَق۔ اِنّی مَعَک۔ کُن مَعِی اَینما کُنتَ۔ کُن مَعَ
اللّٰہ حَیْث ماکنتَ۔ کنتم خَیرَ امّۃٍ اُخرِجَتْ لِلنّاس۔ اِنّکَ بِاَعْیُنِنَا
یرفعُ اللّٰہ ذِکرک۔ وَیتمّ نعمتہ عَلَیْکَ فِی الدّنیا وَالْآخِرۃِ۔ یَا اَحْمد یتم
اِسْمُک ولایتم اِسْمِیْ۔ اِنّی رافعُکِ اِلیّ۔ اَلقیتُ عَلَیْکَ محبَّۃ مِنِّیْ
شَانُکَ عَجیْبٌ وَاَجْرُکَ قَریبٌ۔ اَلاَرض والسَّمَاءُ مَعَکَ کَمَا ھُو معی *
اَنْتَ وَجیْہٌ فِی حَضْرَتی۔ اِخترتُکَ لنفسِیْ۔ اَنْتَ وَجیْہٌ فِی الدّنیا
کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرتے ہو۔ میرے ساتھ میرا خدا ہے وہ عنقریب
مجھے کامیابی کی راہ دکھائے گا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو لو تا خدا بھی تم سے محبت کرے
کیا میں بتلاؤں کہ کن پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ ہر ایک جھوٹے مفتری پر اترتے ہیں۔ ارادہ کرتے ہیں
کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو کامل کرے گا اگرچہ کافر کراہت ہی کریں
عنقریب ہم ان کے دلوں پر رعب ڈال دیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ کا امر ہماری طرف رجوع کرے گا کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میرے ساتھ ہو جہاں تو ہووے۔ خدا کے ساتھ ہو جہاں تو ہووے۔ تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے نفع کیلئے نکالے گئے۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ خدا تیرے ذکر کو بلند کرے گا اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔ اے احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ میں نے اپنی محبت کو تجھ پر ڈال دیا۔
تیری شان عجیب ہے۔ تیرا اجر قریب ہے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے
تو میری جناب میں وجیہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا۔ تو دنیا اور میری جناب میں وجیہ ہے
حاشیہ ۔ ھُوَکا ضمیرواحد باعتبار واحدفی الذہن یعنی مخلوق ہے اور ایسا محاورہ قرآن شریف میں بہت ہے۔ منہ