لئےؔ یہ اشتہار مباہلہ لکھا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف فرما کر اس صدی چہار دہم کا مجدّد قرار دیا ہے اور ہریک مجدّد کا بلحاظ حالت موجودہ زمانہ کے ایک خاص کام ہوتا ہے جس کے لئے وہ مامور کیا جاتا ہے۔ سو اس سنت اللہ کے موافق یہ عاجز صلیبی شوکت کے توڑنے کے لئے مامور ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس خدمت پر مقرر کیا گیا ہے کہ جو کچھ عیسائی پادریوں نے کفاّرہ اور تثلیث کے باطل مسائل کو دنیا میں پھیلایا ہے اور خدائے واحد لاشریک کی کسر شان کی ہے۔ یہ تمام فتنہ سچے دلائل اور روشن براہین اور پاک نشانوں کے ذریعہ سے فرو کیا جائے۔ اس بات کی کس کو خبر نہیں کہ دنیا میں اس زمانہ میں ایک ہی فتنہ ہے جو کمال کو پہنچ گیا ہے اور الٰہی تعلیم کا سخت مخالف ہے یعنی کفاّرہ اور تثلیث کی تعلیم جس کو صلیبی فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہئے۔ کیونکہ کفارہ اور تثلیث کے تمام اغراض صلیب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے دیکھا کہ یہ فتنہ بہت بڑھ گیا ہے اور یہ زمانہ اس فتنہ کے تموّج اور طوفان کا زمانہ ہے۔ پس خدا نے اپنے وعدہ کے موافق چاہا کہ اس صلیبی فتنہ کو پارہ پارہ کرے اور اس نے ابتداسے اپنے نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کافر کش سے یہ فتنہ فرو ہوگا اسی کا نام اس وقت عیسیٰ اور مسیح موعود ہوگا۔
اگرچہ وہ پیشگوئیاں بہت سے نازک اور لطیف استعارات سے بھری پڑی ہیں مگر ان میں جو نہایت واضح اور کھلا کھلا اور موٹا نشان مسیح موعود کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ وہ کسر صلیب ہے یعنی صلیب کو توڑنا۔ یہ لفظ ہریک عقلمند کے لئے بڑی غور کے لائق ہے اور یہ صاف بتلا رہا ہے کہ وہ مسیح موعود عیسائیت کے موجزن فتنہ کے زمانہ میں ظاہر ہوگا نہ کسی اور زمانہ میں۔ کیونکہ صلیب پر سارا مدار نجات کا رکھنا کسی اور دجّال کا کام نہیں ہے۔ یہی گروہ ہے جو صلیبی کفّارہ پر زور دے رہا ہے اور اس کو فروغ دینے کے لئے ہر ایک دجل کو کام میں لا رہا ہے۔
دجّال بہت گزرے ہیں اور شائد آگے بھی ہوں۔ مگر وہ دجّال اکبر جن کا دجل خدا کے نزدیک ایسا مکروہ ہے کہ قریب ہے جو اس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ یہی گروہ مشت خاک کو خدا بنانے والا ہے۔ خدا نے یہودیوں اور مشرکوں اور دوسری قوموں کے