بِسمِؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحمدہٗ ونُصَلّی عَلٰی رَسُولِہِ الکَریم
)رسالہ دعوت قوم(
اشتہار مباہلہ
بغرض دعوت ان مسلمان مولویوں کے جو اس عاجز کو
کافر اور کذّاب اور مفتری اور دجّال اور جہنمی قرار دیتے ہیں
3
اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے
چونکہ علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرف سے فتنہ تکفیر و تکذیب حد سے زیادہ گزر گیا ہے ا ور نہ فقط علماء بلکہ فقرا اور سجادہ نشین بھی اس عاجز کے کافر اور کاذب ٹھہرانے میں مولویوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔اور ایسا ہی ان مولویوں کے اغوا سے ہزارہا ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ وہ ہمیں نصاریٰ اور یہود اور ہنود سے بھی اکفر سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس تمام فتنہ تکفیر کا بوجھ نذیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے مگر تاہم دوسرے مولویوں کا یہ گناہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر مسلمانوں میں اپنی عقل اور اپنی تفتیش سے کام نہیں لیا۔ بلکہ نذیر حسین کے دجّالانہ فتویٰ کو دیکھ کر جو محمد حسین بٹالوی نے طیّار کیا تھا بغیر تحقیق اور تنقیح کے اس پر ایمان لے آئے۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے یا ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے یا ملائک سے انکاری یا حشر و نشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم و صلٰوۃ وغیرہ ارکان اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔ اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور 3 یقین رکھتے ہیں۔
اگر ہمیں ہمارے دعویٰ کے موافق قبول کرنے کے لئے یہی مابہ النزاع ہے تو ہم بلند آواز سے باربار سناتے ہیں کہ ہمارے یہی عقائد ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے جس کے