طرحؔ طرح کے دجل قرآن شریف میں بیان فرمائے مگر یہ عظمت کسی کے دجل کو نہیں دی کہ اس دجل سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتے ہیں۔ پس جس گروہ کو خدا نے اپنے پاک کلام میں دجّالِ اکبر ٹھہرایا ہے ہمیں نہیں چاہئے کہ اس کے سوا کسی اور کا نام دجّالِ اکبر رکھیں۔ نہایت ظلم ہوگا کہ اس کو چھوڑ کر کوئی اور دجّالِ اکبر تلاش کیا جائے۔ یہ بات کسی پہلو سے درست نہیں ٹھہر سکتی کہ حال کے پادریوں کے سوا کوئی اور بھی دجّال ہے جو ان سے بڑا ہے کیونکہ جبکہ خدا نے اپنی پاک کلام میں سب سے بڑا یہی دجّال بیان فرمایا ہے تو نہایت بے ایمانی ہوگی کہ خدا کے کلام کی مخالفت کرکے کسی اور کو بڑا دجّال ٹھہرایا جائے۔ اگر کسی ایسے دجّال کا کسی وقت وجود ہوسکتا تو خدا تعالیٰ جس کا علم ماضی اور حال اور مستقبل پر محیط ہے اسی کا نام دجّالِ اکبر رکھتا نہ ان کا نام۔ پھر یہ نشان دجّال اکبر کا جو حدیث بخاری کے صریح اس اشارہ سے نکلتا ہے کہ یَکْسِرُ الصّلیبصاف بتلا رہا ہے کہ اس دجّالِ اکبر کی شان میں سے یہ ہوگا کہ وہ مسیح کو خدا ٹھہرائے گا اور مدار نجات صلیب پر رکھے گا۔ یہ بات عارفوں کے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے کہ اس جگہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا تظاہر ہوگیا ہے جس سے تمام حقیقت اس متنازعہ فیہ مسئلہ کی کھل گئی۔ کیونکہ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجّالِ اکبر پادریوں کو ٹھہرایا اور ان کے دجل کو ایسا عظیم الشان دجل قرار دیا کہ قریب ہے جو اس سے زمین و آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ اور حدیث نے مسیح موعود کی حقیقی علامت یہ بتلائی کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہوگا۔ اور وہ دجّال اکبر کو قتل کرے گا۔ ہمارے نادان مولوی نہیں سوچتے کہ جبکہ مسیح موعود کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجّال اکبر ہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ بڑا دجل اور بڑا فتنہ جس سے قریب ہے کہ نظام اس عالم کا درہم برہم ہو جائے اور خاتمہ اس دنیا کا ہو جائے وہ پادریوں کا فتنہ ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ پادریوں کے سوا اور کوئی دجّالِ اکبر نہیں ہے اور جو شخص اب اس فتنہ کے ظہور کے بعد اور کی انتظار کرے وہ قرآن کا مکذب ہے۔ اور نیز جبکہ لغت کی روسے بھی دجّال ایک گروہ کا نام ہے جو اپنے دجل سے زمین کو پلید کرتا ہے۔ اور حدیث کی روسے نشان دجّالِ اکبر کا حمایت صلیب ٹھہرا تو باوجود اس کھلی کھلی