مذہبؔ اور اعتقاد سے ہرگز منافی نہیں اور حضرت یسوع صاحب نے باب ۲۳ آیت ۱۳ متی میں خود اس طریق کو استعمال کیا ہے اور ویل کے لفظ سے فقیہوں اور فریسیوں پر بددعا کی ہے اب اگر عیسائی صاحبان کوئی اور لفظ استعمال کرنے سے تامل کریں تو ویل کے لفظ کو ہی استعمال کرنا تو خود ان پر واجب ہے کیونکہ ان کے مرشد اور ہادی نے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ ویل کے معنی سختی اور *** اور ہلاکت کے ہیں۔ سو ہم دونوں اس طرح پر دعا کریں گے کہ اے خدائے قادر اس وقت ہم بالمقابل دو فریق کھڑے ہیں ایک فریق یسوع بن مریم کو خدا کہتا اور نبی اسلام کو سچا نبی نہیں جانتا اور دوسرا فریق عیسیٰ ابن مریم کو رسول مانتا اور محض بندہ اس کو یقین رکھتا اور پیغمبر اسلام کو درحقیقت سچا اور یہود اور نصاریٰ میں فیصلہ کرنے والا جانتا ہے سو ان دونوں فریق میں سے جو فریق تیری نظر میں جھوٹا ہے اس کو ایک سال کے اندر ہلاک کر اور اپنا ویل اس پر نازل کر۔ اور چاہیے کہ ایک فریق جب دعا کرے تو دوسرا آمین کہے اور جب وہ فریق دعا کرے تو یہ فریق آمین کہے۔ اور میری دلی مراد ہے کہ اس مقابلہ کے لئے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو منتخب کیا جائے کیونکہ وہ موٹا اور جوان عمر اور اول درجہ کا تندرست اور پھر ڈاکٹر ہے اپنی عمر درازی کا تمام بندوبست کرلے گا۔ یقیناً ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب ضرور ہماری اس درخواست کو قبول کرلیں گے کیونکہ انہیں یسوع ابن مریم کے خدا بنانے کا بہت شوق ہے۔ اور سخت نامردی ہوگی کہ اب وہ اس وقت بھاگ جائیں اور اگر وہ بھاگ جائیں تو پادری عماد الدین صاحب اس مقابلہ کے لائق ہیں جنہوں نے ابن مریم کو خدا بنانے کے لئے ہر ایک انسانی چالاکی کو استعمال کیا اور آفتاب پر تھوکا ہے۔ اور اگر وہ بھی اس خوف سے بھاگ گئے کہ خدا کا ویل ضرور انہیں کھا جائے گا تو حسام الدین یا صفدر علی یا ٹھاکر داس یا طامس ہاول اور بالآخر فتح مسیح اس میدان میں آوے۔ یا کوئی اور پادری صاحب نکلیں اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے کے بعد دو ماہ تک کوئی بھی نہ نکلا اور صرف شیطانی عذر بہانہ سے کام لیا تو پنجاب اور ہندوستان کے تمام پادریوں کے جھوٹے ہونے پر مہر لگ جائے گی اور پھر خدا اپنے طور سے جھوٹ کی بیخ کنی کرے گا یاد رکھو کہ ضرور کرے گا کیونکہ وقت آگیا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الہدیٰ۔ میرزا غلام احمداز قادیان ۱۴؍ستمبر ۱۸۹۶ء