آتھمؔ کے مقدمہ میں دیکھ چکے ہو کہ باوجود اس کے بہت سے منصوبوں کے پھر آخر حق ظاہر ہوگیا۔ کیا تمہارے دل قبول نہیں کرگئے کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا اور نالش سے انکار کرنا اور حملوں کا ثبوت دینے سے انکار کرنا صرف اسی وجہ سے تھا کہ اس نے ضرور الہامی شرط کے موافق حق کی طرف رجوع کرلیا تھا۔ تمہیں معلوم ہے کہ باجود اس کے کہ ملامتی اشتہاروں کی بہت ہی اس کو مار پڑی مگر وہ اس الزام سے اپنے تئیں بری نہ کرسکا جو اس کے اقرار خوف اور بے ثبوت ہونے عذر حملوں سے اس پر وارد ہوچکا تھا۔ یہاں تک کہ اس موت نے اس کو آپکڑا جس سے وہ ڈرتا رہا اور ضرور تھا کہ وہ انکار کے بعد جلد مرتا۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کی پاک پیش گوئیوں کے رو سے یہی سزا اس کے لئے ٹھہر چکی تھی۔ سو اس خدا سے خوف کرو جس نے آتھم کو بڑی سرگردانیوں کے گرداب میں ڈال کر آخر اپنے وعید کے موافق ہلاک کردیا۔ خدا کی کھلی کھلی پیشگوئیوں سے منہ پھیرنا یہ بدطینتوں کا کام ہے نہ نیک لوگوں کا۔ اور جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔ میاں حسام الدین عیسائی لکھتے ہیں کہ آتھم چار دن تک بے ہوش رہا۔ مگر وہ اس کا سرّ نہیں بیان کرسکے کہ کیوں چار دن تک بے ہوش رہا۔ سو جاننا چاہئے کہ یہ چار دن کی سخت جان کندن کے ان چار افتراؤں کی اسی دنیا میں اس کو سزا دی گئی۔ جو اس نے زہر خورانی کے اقدام کا افترا کیا۔ سانپ چھوڑنے کا افترا کیا۔ لودیانہ اور فیروز پور کے حملہ کا افترا کیا اور عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے اصل وجہ خوف کو چھپایا۔ سو عیسائیوں کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی شرم کی جگہ نہیں کہ آتھم ان کے مذہب کے جھوٹا ہونے پر گواہی دے گیا۔ اب اگر آتھم کی گواہی پر اعتبار نہیں تو اس نئے طریق سے دوبارہ حجت اللہ کو پورا کرا لینا چاہئے۔ اور اس نئے طریق میں کوئی شرط بھی نہیں۔ سیدھی بات ہے کہ اگر باہم دعا کرنے کے بعد جس کے ساتھ فریقین کی طرف سے آمین بھی ہوگی۔ میرے مقابل کا شخص ایک سال تک خدا تعالیٰ کے فوق العادت عذاب سے بچ گیا تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں تاوان مذکورہ بالا ادا کروں گا۔
اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دعا ان کے