اگرؔ اب بھی عیسائی باز نہ آویں تو بہتر ہے کہ ہم اور ان کے چند سرگروہ مباہلہ کے طور پر میدان میں آکر خدا کے انصاف سے فتویٰ لے لیں جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے *** کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں۔ نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ پادری وایٹ بریخت شملہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے چند اپنے عیسائیوں کے ساتھ قادیان میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آتھم نہیں مرا۔ میں نے کہا کہ اس نے اسلامی پیشگوئی سے ڈر کر پیشگوئی کی شرط سے فائدہ اٹھایا اور خود اقرار کیا کہ میں ڈرتا رہا اور ان حملوں کا ثبوت نہ دے سکا جو ڈرنے کی وجہ ٹھہرائی۔ وایٹ نے کہا کہلعنت اللّٰہ علی الکاذبین یعنی جھوٹوں پر *** ہو۔ میں نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر *** وارد ہوگی۔ اگر آتھم جھوٹا ہے یا میں تو خدا اس کا فیصلہ کردے گا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس *** کا اثر آتھم پر وارد ہوگیا
کہ اب میں کذاب کہلا کر اپنی قوم کی طرف واپس نہیں جاؤں گا اور دوسری راہ لی۔ دیکھو تفسیر درمنثور تحت تفسیر آیت مُغَاضِبًا۱۔ اور دیکھو صفحہ ۱۴ اشتہار چہارم انعامی چار ہزار روپیہ۔
ہم اس جگہ حضرت مولوی احمد حسن صاحب کو ہی منصف ٹھہراتے ہیں کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا یہ الہام جھوٹا نکلا اور نعوذ باللہ یونس کذاب تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم اکثر لوگوں سے جاتا رہا ہے۔ اور بظاہر اہل حدیث بھی کہلاتے ہیں مگر حدیثوں کے مغز سے ناواقف ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ انہی قصوں کے لحاظ سے اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ وعید کی میعاد کی تاخیر کسی سبب توبہ یا خوف کی وجہ سے جائز ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر اور ان احادیث کو پڑھ کر پھر اس پیشگوئی کی تکذیب کی جائے جو یونس کی پیشگوئی سے ہم شکل ہے اور ایسے امور میں اس عاجز کو کاذب ٹھہرایا جائے جن میں دوسرے انبیاء بھی شریک ہیں۔
میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا ئے تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کردے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ بائبل کی بعض پیشگوئیوں میں دنوں کے سال بنائے گئے ہیں جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی ا س کو روک نہیں سکتا۔ ذرا شرم کرنی چاہئے کہ جس حالت میں خود احمد بیگ اسی پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور وہ پیشگوئی کے اول نمبر پر تھا تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں شک نہ کیا جاوے کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری جز ہے جس حالت میں خدا اور رسول