اولؔ درجہ کی رسائی رکھتے تھے۔ پھر بھی اس کا دل اس بات پر مطمئن نہ ہوسکا کہ وہ ایسی نالش کے بعد پھر بچ کر اپنے گھر میں آجائے گا۔ اگر رؤیت کی شہادتوں سے یہ ثابت کرنا آتھم کو میسر آسکتا کہ درحقیقت یہ ناجائز حملے ہوئے تو کم سے کم وہ اخباروں کے ذریعہ سے اس ثبوت کو پبلک پر ظاہر کرتا۔ کیونکہ اس کامیابی کے اندر عیسائیوں کا بڑا مدعا بھرا ہوا تھا وجہ یہ کہ اس کا عام نتیجہ یہ تھا کہ ہمارا کاذب اور مفتری ہونا ہر ایک پر کھل جاتا اور کم سے کم یہ کہ ہمارے چال چلن کی نسبت ہر ایک کو قوی شبہ پیدا ہو جاتا اور صفحات تاریخ میں ہمیشہ یہ واقعہ قابل ذکر سمجھا جاتا اس امر میں کس کا اطمینان ہوسکتا ہے کہ آتھم نے ان بہتانوں کو پیش کرکے اور پھر ثبوت دینے سے رو گردان ہوکر بے ایمانی اور دروغ گوئی کی راہ کو اختیار نہیں کیا-
کا خدائے تعالیٰ کی پاک کتابوں پر اعتراض ہے۔ ہمارے اشتہار چہارم کو پڑھو جس کے ساتھ چار ہزار روپیہ کا انعام ہے تامعلوم ہو کہ کیونکر خدائے تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر صفحہ ۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر درّمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔ دیکھو اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۲۔ اور یونہ یعنی یونس نبی کی کتاب میں جو بائبل میں موجود ہے۔ باب ۳ آیت ۴ میں لکھا ہے۔ ’’اور یونہ شہر میں یعنی نینوہ میں داخل ہونے لگا اور ایک دن کی راہ جا کے منادی کی اور کہا چالیس اور دن ہوں گے تب نینوہ برباد کیا جائے گا۔ تب نینوہ کے باشندوں نے خدا پر اعتقاد کیا اور روزہ کی منادی کی اور سب نے چھوٹے بڑے تک ٹاٹ پہنا اور خدا نے ان کے کاموں کو دیکھا کہ وہ اپنی بُری راہ سے باز آئے۔ تب خدا اس بدی سے کہ اس نے کہی تھی پچھتا کے باز آیا اور اس نے ان سے وہ بدی نہ کی۔ باب ۴۔ پر یونہ اس سے ناخوش ہوا اور نپٹ رنجیدہ ہوگیا۔ ۲۔ اور اس نے خداوند کے آگے دعا مانگی۔ ۳۔ اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو مجھ سے لے لے۔ کیونکہ میرا مرنا میرے جینے سے بہتر ہے۔‘‘ اور درّمنثور میں ابن عباس سے یہ روایت ہے۔ اوحی اللّٰہ الٰی یونس انّی مرسل علیھم العَذاب فی یوم کذا وکذا۔ فعجّوا الی اللّٰہ وانابوا فاقالھم اللّٰہ واَخَّر عنھم العَذَاب۔ فقال یونس لا ارجع الیھم کذّابًا ومضیٰ علٰی وجھہٖ۔ یعنی خدا نے یونس پر یہ وحی نازل کی کہ فلاں تاریخ مَیں عذاب نازل کروں گا۔ سو ان لوگوں نے خدا کی طرف تضرع کی اور رجوع کیا۔ سو خدا نے ان کو معاف کر دیا اور کسی دوسرے وقت پر عذاب ڈال دیا۔ تب یونس کہنے لگا