بلکہؔ اس نے امور واقعہ کی طرف نظر کرکے یہ امر صاف دیکھا کہ ان دونوں کارروائیوں میں سے کوئی کارروائی بھی اس کے لئے مبارک نہیں ہوگی اور انجام بد ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اپنے تئیں عیسائی کہلانا اس کی عملی حالت سے اخیر دم تک متناقص رہا۔ اس کے رفیق پادری اور ڈاکٹر کلارک سر پیٹ پیٹ کر تھک گئے مگر اس نے نہ چاہا کہ ان دعاوی کو عدالت کے ذریعہ سے ثابت کراوے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسے بڑے بہتان پیشتر اس کے کہ وہ صحیح سمجھے جاویں طبعی طور پر پختہ ثبوت کے واسطے تقاضا پیدا کرتے ہیں۔ اور درحالت عدم ثبوت عدالتیں فریق ثانی کو انتقامی استغاثہ کی جازت دیتی ہیں۔ سو سوچنا چاہئے کہ وہ کس قدر اپنے اس بہتان اور جھوٹ سے ہراساں اور ترساں تھا کہ باوجود یکہ اس کے داماد بڑی بڑی حکومت کے عہدوں پر معزز تھے اور اس کے عیسائی دوست گورنمنٹ میں کے مطابق اس کی موت ہوئی۔ اور اس پیشگوئی میں دو پہلو تھے۔ سو اپنے دونوں پہلوؤں کے رو سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ ہم کسی متعصب بے حیا کا منہ بند تو نہیں کرسکتے اور نہ ہم سے پہلے کوئی نبی یا رسول بند کرسکا۔ لیکن ایک متقی کے لئے اس پیشگوئی کی صداقت سمجھنے میں کچھ بھی مشکلات نہیں چنانچہ ہم اسی رسالہ اور پہلے رسائل میں بھی بہت کچھ بیان کرچکے ہیں۔ باقی رہی احمد بیگ کی موت اور اس کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی سو احمد بیگ تو پیشگوئی کی میعاد کے اندر فوت ہوگیا۔ جس سے ہمارے کسی مخالف کو انکار نہیں گویا پیشگوئی کی دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ رہا داماد اُس کا۔ سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا کہ گویا قبل از موت مرگیا۔ اور اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ جب ایک ہی پیشگوئی دو شخص کی موت کی خبر دیوے اور ایک ان میں سے مرجائے تو دوسرے پر اس موت کا طبعاً و فطرتاً اثر پڑ جاتا ہے۔ سو اس جگہ ایسا ہی ہوا۔ لہٰذا سنت اللہ کے موافق جس کا ذکر ہم بار بار لکھ چکے ہیں اس وعید کی میعاد میں تخلف ہوگیا۔ ہم اپنے پہلے اشتہاروں میں ان بعض خطوط کا ذکر کرچکے ہیں جو ان لوگوں کی طرف سے ہمیں پہنچے جن میں توبہ اور خوف و رجوع کا اقرار تھا۔ پھر اگر یہ امر قرآن اور توریت کی رو سے صحیح نہیں ہے کہ وعید کی پیشگوئی کی میعاد کا تخلّف جائز ہے تو ہر ایک معترض کا اعتراض بجا اور درست ہے لیکن اگر قرآن اور توریت کی رو سے یہی امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعاد توبہ اور خوف سے ٹل سکتی ہے تو سخت بے ایمانی ہوگی کہ کوئی شخص مسلمان کہلا کر یا عیسائی کہلا کر پھر ایسی بات پر اعتراض کرے جو قرآن شریف اور پہلی آسمانی کتابوں سے ثابت ہے اس صورت میں ایسا شخص ہم پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ ایسے نالائق