لئےؔ ہماری طرف سے ناجائز حملے ہوئے۔ ہم نے اس کو اپنے پہلے اشتہاروں میں بہت غیرت دلائی اور غیرت دینے والے الفاظ استعمال کئے مگر کچھ ایسا دھڑکا اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا کہ وہ سر نہ اٹھا سکا۔ پھر ہم نے نہایت الحاح اور انکسار کے ساتھ یسوع کی عزت اور مرتبہ کو یاد دلا کر قسم دی اور جہاں تک الفاظ ہمیں مل سکے ہم نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بہتان کو جو ہم پر لگاتا ہے ثابت کرے یا قسم کھاوے۔ لیکن وہ ان بدبخت جھوٹوں کی طرح چپ رہا جن کا کانشنس ہر وقت ان کو ملامت کرتا ہے کہ تم خدا کی *** کے نیچے کارروائی کر رہے ہو۔ یقیناً اس کو یہ خوف کھا گیا کہ تحقیق کرانے کے وقت اس کے جھوٹے منصوبہ کے تمام پر وبال گر جائیں گے اور قسم کھانے کی حالت میں خدا کا قہر اس پر نازل ہوگا۔ سو اس نے نہ نالش کی اور نہ قسم کھائی کلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کرلے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی ؐسے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔ قولہ۔ حضرت اقدس میرزا صاحب نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار اپنی بیش بہا اور لاثانی کتاب شھادۃ القرآن میں درج فرمایا ہے )یعنی آتھم اور احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی پیشگوئی اور لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش خبری( اب ناظرین خود بخود سمجھ لیں گے کہ وہ سچا دعویٰ ہے یا دروغ بے فروغ۔ اقول۔ میں کہتا ہوں کہ لیکھرام کی پیشگوئی کی میعاد تو ابھی بہت باقی ہے سو اس کا ذکر پیش ازوقت ہے ہاں آتھم۱ اور احمد بیگ۲ اور دا۳ماد احمد بیگ کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس کی میعاد گزر چکی ہے۔ درحقیقت یہ دو پیشگوئیاں تھیں۔ ایک آتھم کی موت کی نسبت دوسری احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کی نسبت سو آتھم ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء کو بروز دو شنبہ فوت ہوگیا۔ اور ایک آنکھیں رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ پیشگوئی