جو ہرؔ ایک سچائی سے بھرا ہوا کانشنس بآسانی اس کو قبول کرسکتا ہے۔ زہر خورانی کے اقدام اور تین حملوں کا منصوبہ ایک ایسی مکروہ بناوٹ ہے کہ میں خیال نہیں کرسکتا کہ کسی شریف عیسائی کے دل نے بھی اس کو قبول کیا ہو۔ یا ایک طُرفۃ العین کے لئے بھی اس کی طرف خیال آسکتا ہو۔ لیکن ہر ایک محقق اور پاک دل کو اس امر میں شک کرنے کے لئے کوئی وجہ دکھائی نہیں دے گی کہ وہ خوف جس کا آتھم کو اقرار ہے بجز پیشگوئی کی عظمت کے اور کوئی صحیح مصداق اس کا موجود نہیں اگر آتھم نے ان جھوٹے بہتانوں کو بیان نہ کیا ہوتا۔ اور یہ عذر کرتا کہ وہ اس سے ڈرا کہ کوئی خود غرض اس کو ضرر نہ پہنچاوے تو شاید کوئی سادہ طبع اس کو قبول کرلیتا اور کم سے کم یہ سمجھ لیتا کہ آتھم کا یہ فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے لوگوں پر حق کو مشتبہ کردیا لیکن ایسے سادہ طور سے بیان کرنا ایسے مفتری کے لئے کب ممکن تھا کہ جو درحقیقت پیشگوئی سے ڈر کر اپنی مجرمانہ حالت کی تحریک سے ناجائز بہانوں کے سوچ میں پڑا اور اس نے سچائی سے آگے قدم رکھ کر جھوٹ اور بہتان سے کام لینا چاہا جس سے وہ بازپُرس اور طلب ثبوت کے لائق ہوا۔ یہ کہنا بے جا ہے کہ پیشگوئی سے ڈرنے کا بار ثبوت آتھم پر نہیں تھاکیونکہ جبکہ اس نے ڈرنے کا اقرار کرکے بلکہ خوف کو اپنی حرکات سے ظاہر کرکے پھر وجوہ خوف کے ایسے بے ہودہ اور جعلی بیان کہے جو سراسر بہتان اور بے دلیل تھے تو بلاشبہ یہ بوجھ اسی کی گردن پر تھا کہ وہ اس کو ثابت کرتا اور اس کو چاہئے تھا کہ اس افترا کے الزام سے بَری ہونے کے لئے کہ جو طریقہ مستقیمہ انصاف سے اس کی نسبت عائد ہوتا تھا اپنی صفائی کے گواہ پیش کرتا۔ نالش اور قسم سے اس کا گریز کرنا صریح حقیقت کو چھپانے کے لئے تھا جبکہ اس کو اور اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو ہماری طرف سے اس قدر دکھ اور صدمہ پہنچ چکا تھا جس سے زیادہ دنیا میں پہنچنا غیر ممکن ہے۔ تو ایسا مظلوم کس طرح خاموش رہ سکتا تھا۔ ہم نے یہ سزا اپنے لئے خود تجویز کرلی تھی کہ وہ قسم کھاکر چار ہزار روپیہ نقد ہم سے لے لے۔ سو اس نے نہ چاہا کہ قسم کھانے کی طرف متوجہ ہو۔ اب منصفین کے سوچنے کا یہ بڑا بھاری موقعہ *ہے کہ کیوں اس نے ایسے پہلو سے حاشیہ۔ پرچہ شحنہ ہند میرٹھ یکم ستمبر ۱۸۹۶ء سے پہلے صفحہ میں ہی ایک نامہ نگار صاحب نے اس عاجزکی پیشگوئی آتھم وغیرہ کی نسبت کچھ نکتہ چینی کرکے اخیر پر اپنا نام انصاف طلب لکھا ہے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے کہ کوئی