اجتناؔ ب کیا جس سے اس کے دعویٰ کے تمام نقص اور عیوب پبلک کی نگاہ میں کالعدم ہوسکتے تھے۔ اور پورے طور پر اس کی صفائی ہوسکتی تھی۔ اس کا فرض تھا کہ وہ جس طرح ہوسکتا ان الزاموں سے اپنے تئیں بَری کرکے دکھلاتا کہ جو اس پر وارد ہوچکے تھے۔ نالش سے یا خانگی تحقیقات پیش کرنے سے یا قسم سے یا کسی اور طریق سے۔ لیکن وہ اپنے تئیں اس داغِ الزام سے بری نہ کرسکا یہاں تک کہ قبر میں داخل ہوگیا سو اس کے کذب پر ایک تو یہی ثبوت تھا کہ اس نے اپنی بریت ظاہر کرنے سے باوجود بہت وسیع موقعہ ملنے کے عمدًا پہلوتہی کیا لیکن علاوہ اس کے ایک دوسری جزو ثبوت کی اس کے کذب پر یہ پیدا ہوئی جو وہ اس دوسری پیشگوئی کے اثر سے جس کا ہم صدر اشتہار میں ذکر کرچکے ہیں اپنی زندگی کو بچا نہ سکا اور یہی بیباکی اور قسم کھانے سے انکار جس کے نتیجہ بد کی نسبت بار بار پیشگوئی کی گئی تھی اور بیان کیا گیا تھا کہ اس کے اصرار کے زمانہ کے بعدعذاب موت شخص انصاف طلب یا انصاف کا خواہاں ہو۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اکثر لوگ حق پسند اور انصاف طلب کہلا کر پھر جلدی سے انصاف کا خون کردیتے ہیں اور قبل اس کے جو کسی بات کی تہ تک پہنچیں اور کسی اصل حقیقت کو دریافت کریں رائے ظاہر کرنے کے لئے طیار ہوجاتے ہیں۔ پھر ایسی رائے جو صرف سرسری اور سطحی خیال سے پیدا ہوئی ہے کیونکر غلطی سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ ناچار وہ اپنی شتاب کاریوں کی وجہ سے قابل شرم غلطیوں میں پڑتے ہیں اور پھر اپنی غلطی کی پچ میں ایسا تعصب پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ اس سے رجوع کرسکیں۔ اگرچہ سچائی روز روشن کی طرح کھل جائے۔ بہرحال صاحب انصاف طلب کی خدمت میں ان کے بعض کلمات کا جواب دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ قولہ۔ ’’میرزا صاحب کے موافقین اور مخالفین نے پرلہ درجہ کی افراط اور تفریط کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہو کہ میں قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں۔ اور لوگوں کو اسلام سکھاتا ہوں۔ اس کو کافر کہنا زیبانہیں۔ مگر ایک عالم کے رتبہ سے بڑھا کر پیغمبری تک پہنچانا بھی نہیں۔‘‘ اقول۔ صاحب انصاف طلب کے بیان میں یعنی ان کے پہلے ہی قول شریف میں تناقض پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ بہت ہی حق پسند بن کر نہایت مہربانی سے فرماتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنا زیبا نہیں اور پھر دوسری طرف اُسی منہ سے میری نسبت رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا میری جماعت درحقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے درحقیقت نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں۔ اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا میں کہ مسلمان