ثبوتؔ ہی پیش کریں تا افترا اور بہتان کا کلنک کسی قدر تو ہلکا ہو جائے۔ اور اگر کچھ بھی ثبوت نہیں تو کیا یہ معقول قیاس نہیں کہ یہ سب کچھ صرف ایک ہی بات کے واسطے بنایا گیاتااس خوف کی دھار کو جو اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے زور سے بہہ رہی تھی خوانخواہ دوسری طرف پھیر دیا جائے۔
اب اس امر کو کون ہے کہ ثابت شدہ تسلیم نہ کرے کہ آتھم نے اس حد تک رجوع الی الحق ضرور کیا جو ایک خائف اور ترساں اور ہراساں کی نسبت خیال کرسکتے ہیں۔ میں اس واقعہ کو قبول کرتا ہوں کہ جیسا کہ وہ پیشگوئی سے پہلے عیسائی تھا ایسا ہی پیشگوئی کی میعاد گذرنے کے بعد اس نے اپنی عیسائیت کو ظاہر کیا لیکن کیا کوئی اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ اس نے پیشگوئی کے ایام میں کبھی تحریرًا یاتقریرًاعیسائیت کے اصول کی تائید کرکے اپنا سرگرم عیسائی ہونا ظاہر کیا جیسا کہ پہلے اس کا شیوہ اور طریق تھا۔ بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ ان تمام دنوں میں عیسائیت کا چولہ اتار کر حقیقی خدا کے آگے تضرع میں رہاجیسا کہ مختلف شہادتیں اس کے ثبوت میں اب تک گزر رہی ہیں۔ پھر فرعون کی طرح خطرناک ایام کے گزرنے کے بعد دن بدن سخت دل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ ہمارے اشتہار ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء کے وقت میں پورے طور پر وہ کفر کے گڑھے میں گر گیا اور بلعم کی طرح دنیا سے محبت کرکے ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء میں ان روحوں میں جا ملا جو دوزخ کی تاریک آگ میں جل رہی ہیں۔
سنو اے عزیزو! آتھم کے بیان پر کیونکر راستی کی امید ہوسکتی ہے جو محض بے ثبوت اور جس میں بناوٹ اور جذبات کی دور سے بُو آرہی ہے اور جو نہ بادی النظر میں اور نہ عمیق نگاہ میں درست ٹھہر سکتا ہے۔ اور نہ صرف بے دلیل بلکہ فطرتی طور پر حق کو چھپانے کے لئے یہی عام طریقہ حیلہ سازوں کا ہے۔ جو بات قرین قیاس نہیں کیا وہ ایسی بات کے مقابل پر کچھ وزن رکھتی ہے۔
اس پر موت نازل کردی سو اس مبارک پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے اپنی صفات جمالی اور جلالی دونوں دکھلا دئیے اور نا سمجھ عیسائیوں اور نالائق مولویوں کو ذلت پر ذلت نصیب ہوئی۔ اسلام کا بول بالا ہوا اور مردہ پرست پادری اور نفاق زدہ یہودی سیرت مولوی سخت ذلیل ہوگئے۔ مگر کیا وہ اب بھی سچائی کی طرف واپس آئیں گے۔ ہرگز نہیں۔
قلوبٌ ملعونۃٌ فمن یُّرد من لعنہُ اللّٰہ۔ فتدبّر ان کنتَ مِن الصّالحین۔ منہ