ٹالناؔ چاہا مگر ہم نے قسم کو قبول نہ کیا۔ کیا یہ روا ہے کہ بے دلیل کسی کو ایسے سنگین جرائم کا ملزم ٹھہرایا جائے اور اس کی روش اور چال چلن پر ناحق دھبّہ لگایا جاوے۔ برائے خدا ذرا سوچو کہ کسی بھلے مانس پر بے ثبوت تہمتیں لگا کر پھر کسی طور سے ان تہمتوں کا ثبوت نہ دینا کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے یا بدمعاشوں کا!!! عیسائیوں نے آتھم کے ان بہتانوں کا بار بار ذکر تو کیا مگر یہ نہیں دکھلایا کہ ان کے نزدیک اس کا ثبوت کیا ہے۔ کیا وہ لوگ جو ان واقعات سے ذاتی واقفیت کا اقرار رکھتے ہیں کسی غار میں زندہ موجود ہیں یا وہ بھی آتھم کے ساتھ ہی مر گئے؟۔ کیا عیسائی دیانت یہی تھی جواب ظاہر ہوگئی۔ اگر کامل ثبوت موجود نہیں تو مختصر اور ناکافی پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کریں گے۔ یعنی ان کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو جائے گا اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتح یاب ہو نہ دشمن اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور نہ باز آ ئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کر دیوے یعنی جو مکر بنایا گیااور مجسم کیا گیا اس کو توڑ ڈالے گا اور اس کو مردہ کرکے پھینک دے گا اور اس کی لاش لوگوں کو دکھاوے گا۔ اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید اس کی پنڈلیوں سے ننگا کرکے دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اوفتح کے دلائل ظاہر کر دیں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ پہلے مومن بھی پچھلے مومن بھی۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲۔ اب دیکھو آج اس الہام کے موافق کیسے صفائی سے اس پیشگوئی کی حقیقت کھل گئی۔ کیا آج وہ سب مرگئے یا نہیں جنہوں نے امرتسر میں آتھم کو گاڑی میں بٹھا کر بازاروں میں پھرایا تھا۔ کیا آج ثابت ہوگیا یا نہیں کہ ان کی وہ ساری خوشیاں جھوٹی تھیں۔ اس پیشگوئی میں خدائے رحیم نے صاف وعدہ فرمایا تھا کہ گو آتھم نے الہامی پیشگوئی کی وجہ سے بہت غم وہم اپنے دل پر ڈال کر خدا کی سنت قدیمہ سے فائدہ اٹھایا اور اس کی موت میں تاخیر ہوگئی مگر بیباکی کے وقت پھر خدا اس کو پکڑے گا اور ہلاک کرے گا۔ سو اب یہ پیشگوئی دُہرے طور پر دونوں پہلوؤں پر پوری ہوگئی۔ اول آتھم کے ہم و غم کی وجہ سے اس طرح پر پوری ہوئی کہ موافق الہامی شرط کے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی گئی پھر آتھم کی بے باکی اور سخت انکار کی حالت میں اس طرح پر پوری ہوئی کہ خدا نے اپنے وعدہ کے موافق