اسیؔ طرح آتھم کو بھی اس راز کے افشا میں اپنی جان کا اندیشہ تھا کیا کوئی سچا اس پر راضی ہوسکتا ہے کہ اس کے ایسے دعاوی جو اس کی سچائی کا مدار ہیں اندھیرے میں چھوڑے جائیں اور کوئی بھی سچائی کی چمک ان میں نظر نہ آوے۔ سچا مدعی اپنے کسی پہلو کو قابل اعتراض چھوڑنا نہیں چاہتا اور پوری صفائی کے لئے تیار ہوتا ہے مگر حسام الدین صاحب مجھے بتلاویں کہ کس بات میں آتھم نے پوری صفائی دکھلائی۔ کیا اس نے حملوں کے وقت کسی تھانہ یا عدالت میں رپورٹ کی۔ اور اگر یہ نہیں تو کیا زبانی ہی کسی حاکم سے یہ ذکر کیا۔ یا کسی دوست کو اس راز سے اطلاع دی۔ کیا اس نے سزا دلانے کے لئے کسی نالش یا مچلکہ کے لئے کوئی کوشش کی یا خانگی طور پر کوئی ثبوت دیا۔ یا اس نے قسم سے اس الزام کو اپنے پر سے دیکھو آج جیسا کہ خدا نے پیش از وقت وہ الہام کیا تھا جو انوار الاسلام صفحہ ۲ میں درج ہے۔ کیا صفائی سے پورا ہوا۔ اور وہ یہ ہے۔ اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَغَمِّہٖ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِ یْلًا۔وَلَا تَعْجَبُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ۔ وَبِعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ۔اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ کُلَّ مُمَزَّق۔ وَمَکْرُ اُولٰءِٓکَ ھُوَ یَبُوْر۔ اِنَّا نَکْشِفُ السِّرَّعَنْ سَاقِہٖ۔یَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ وَھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلا۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲ اور پھر اسی انوار الاسلام صفحہ ۲ میں اس الہام کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے(یعنی آتھم کے )ہم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی۔ جب تک کہ وہ بے با کی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دے۔ یہ معنی فقرہ مذکور کے تفہیم الٰہی سے ہیں اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اور تو ربّانی سنتوں میں تغیر و تبدل نہیں پائے گا۔ اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہو جائیں جو غضب الٰہی کو مشتعل کریں۔ اور اگر دل کے کسی گوشہ میں کچھ خوف الٰہی مخفی ہو اور کچھ دھڑکہ شروع ہو جائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔ اور دوسرے وقت پر جا پڑتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ کچھ تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔ یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے۔ اور پھر فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے۔ یہ اس عاجز کو خطاب ہے۔ اور