رحیماؔ نہ عادت مجرموں کا واجب تدارک کرانے سے روکتی رہی بلکہ جس حالت میں پہلے حملہ کی و!جہ سے آئندہ زندگی کا امن اٹھ گیا تھا تو کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ پھر بھی آتھم صاحب نے درگذر اور عفو کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کسی نے اس کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اب دشمن کا تدارک بہت ضروری ہے اور اس میں دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی جان کا بچاؤ اور دوسرے دشمن کے مذہب کی ذلت جو عیسائیوں کا عین مطلب ہے۔
یہ بھی یادر رکھنے کے لائق ہے کہ آتھم کا بیان صرف اس اعتبار تک محدود تھا کہ جو ایک مدعا علیہ کے ایسے بیان پرکرسکتے ہیں جس کا اس کے پاس کچھ بھی ثبوت نہ ہو اگر اس نے ان حملوں کا واقعی طور پر معائنہ کیا تھا تو وہ بڑا ہی بدقسمت تھا کہ باوجود یکہ اس کی کوٹھی بہت سے آدمیوں سے بھری ہوئی تھی۔ تب بھی وہ کسی اپنے آدمی کو کوئی سوار یا پیادہ یا گھوڑا یا ہتھیار دکھلا نہ سکا اور نہ بیان کرسکا یہاں تک کہ پیشگوئی کی معیاد گزر گئی گویا جس طرح فری میسن کے لوگ اپنا راز ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔
پھر ہمیں کون سی ضرورت پیش آئی تھی کہ انگریزوں کی عدالتوں کے دروازہ پر اپنے تئیں سرگردان کرتے۔ ہم تو اس وقت سے ہی آتھم کو مرا ہوا دیکھتے تھے جبکہ جاہل عیسائی اور نادان بطّالوی اور اس کے ہم خیال آتھم مذکور کو زندہ سمجھتے تھے۔ لیکن یہ فرض آتھم کا تھا کہ جن بے ثبوت حملوں کے الزاموں سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ وہ ضرور اس پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا جو نہایت ہولناک لفظوں میں بیان کی گئی تھی اور ضرور اس نے پیچھے سے اپنے خوف کی اصل حقیقت چھپانے کے لئے اقدام قتل کا بے ثبوت افترا بنا لیا۔ عدالت میں نالش کرکے ان حملوں کا ثبوت دیتا اور مجرموں کو واقعی سزا دلاتاکیونکہ اس کے بے ثبوت دعووں کا بار ثبوت تو اسی کے ذمہ تھا۔ لیکن وہ ظالم مفتری تو قسم بھی نہ کھا سکا چہ جائیکہ نالش کرتا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ کسی طرح نالش سے یا قسم سے یا خانگی طور پر ثبوت دینے سے اپنی صفائی ظاہر کردیتا۔ کیا وہ چار حملے یعنی ارادہ زہر خورانی اور سانپ چھوڑنا اور لودیانہ اورفیروز پور میں جو بقول آتھم قتل کے لئے حملے ہوئے ان تمام حملوں کا ثبوت میرے ذمہ تھا یا آتھم کی گردن پر تھا۔
اے بدذات فرقہ مولویان ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا