تناقضؔ بھی ہے کہ کبھی وہ حملے کرنے والوں کا نام فرشتے رکھتا ہے جو گناہ سے پاک ہیں اور کبھی ان کو ناپاک طبع انسان ٹھہراتا ہے جن کا کام ناحق کا خون کرنا ہے اور پھرُ طرفہ یہ کہ ان میں وہ کسی کا نام نہیں بتلا سکا اور یہ بھی نہیں کہا کہ میں ان کو شناخت کرسکتا ہوں اور وہ خوب جانتا تھا کہ ایسے بیہودہ اور بے اصل بہتان سے اس راقم کے مخالف کوئی قیاس نہیں نکل سکتا۔ اس لئے اس نے ان بہتانوں کو عام طور پر شائع بھی نہیں کیا۔ صرف نور افشاں میں ایک دجل آمیز تقریر میں چھپوا دیا۔
اس سے یہ امر قابل لحاظ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھپوانا صرف عیسائیوں کی دلجوئی کی و!جہ سے تھا جس کو اس نے بار بار بیان کرنا بھی نہیں چاہا۔
قاعدہ فطرت کے مطابق یہ بات عادات میں داخل ہے کہ انسان حریف کی تکذیب کے لئے اصل واقعات کو چھپاتا ہے۔ یہ ایک معمولی بات ہے اور گو اس پر بہت کچھ منحصر نہیں مگر بے ثبوت عذروں کے پیش ہونے کے بعد اس فطرتی امر کا ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ آتھم کے تمام حالات میں اس خیال کے پیدا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے کہ وہ بجز اقدام قتل کے حملوں کے صرف پیشگوئی کی عظمت سے ڈر نہیں سکتا تھا کیونکہ ایسا خیال ان حملوں کی صحت اور آتھم کی طرز استقامت کے ثبوت پر موقوف تھا جس کا ثبوت نہ آتھم پیش کرسکا اور نہ اس کا کوئی اور حامی۔ اور ظاہر ہے کہ اگر اس بیان میں کچھ سچائی ہوتی تو آتھم کو طریقہ فطرت فی الفور سکھلاتا کہ آئندہ حملوں کے روکنے کے لئے جن میں ابھی ایک برس پڑا تھا کوئی قانونی کارروائی کرے۔ *کیا یہ عذر قابل اطمینان یا عدالت کو تشفی بخش ہے کہ ہر ایک حملہ کے وقت اس کی
نادان بطّالوی محمد حسین اپنے پرچہ اشاعت السنہ میں ہم پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ جس حالت میں آتھم نے تم پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ میرے قتل کرنے کے لئے کئی حملے میرے پر کئے گئے تو چاہئے تھا کہ تم اس پر نالش فوجداری کرتے اور اگر الزام فی الواقعہ جھوٹا تھا تو اس کو سزا دلاتے۔
مگر افسوس کہ بطالوی نے اس اعتراض میں بھی شیطان ملعون کی طرح دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہا۔ اعتراض کے وقت اس کو خوب معلوم تھا کہ پیشگوئی کے الفاظ میں بار بار یہ ذکر ہے کہ آتھم انکار کی حالت میں بے سزا نہیں چھوڑا جائے گا اور خدا اس کو اصرار انکار کے بعد جلد پکڑے گا اور ہلاک کرے گا پس جس حالت میں آسمانی عدالت سے ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ عنقریب آتھم آسمانی وارنٹ سے گرفتار کیا جائے گا اور اپنے جرم بے باکی اور انکار پر ماخوذ ہوکر جلد سزائے موت سے سزا یاب ہوگاتو