اگرؔ چہ حال کے فلاسفروں کی نظر میں یہ پہلا احتمال بہت قدر کے لائق نہیں ہے یعنی یہ کہ آتھم کو فرشتے نظر آئے ہوں مگر چونکہ خود اس کے مُنہ سے یہ الفاظ نکلے تھے کہ’’ میں خونی فرشتوں سے ڈرتا رہا‘‘ اس لئے ہمیں مناسب ہے کہ اس کے ان الفاظ کو بھی اس سچائی پر قیاس کریں کہ جو بعض اوقات بے اختیار مجرم کی زبان پر جاری ہوجاتی ہے۔
ایک محقق کی نظر میں یہ امر بہت مشکل ہے کہ اگر یہ تمام حملے انسان ہی کے حملے تھے تو ان مختلف حملوں میں کوئی دوسرا شخص کسی موقعہ پر بھی آتھم کا شریک رؤیت نہ ہو سکا اور آتھم کی زبان پر بھی مہر لگی رہی اور اس نے اس میعاد میں کوئی کارروائی ایسی نہ دکھلائی جیسا کہ ایک شخص خونیوں کے حملوں سے ڈرنے والا طبعی جوش سے دکھلاتا ہے بلکہ اس نے تو اپنا دامن قسم کھانے سے بھی پاک نہ کیا جس کے کھانے میں نہ صرف آسانی بلکہ نقد چار ہزار روپیہ ملتا تھا۔
پس ان واقعات سے یہ نتیجہ نکالنا عین انصاف ہے کہ کوئی ڈرانے والا امر اس کو اس جرأت کرنے سے روکتا تھا کہ وہ نالش کرتا یا قسم کھاتا یا خانگی تحقیقات کرواتا۔ اگر ایک پاک نظر لے کر اس مقدمہ پر سلسلہ وار غور کرو تو تمہیں بہت جلد سمجھ آجائے گا کہ اول سے آخر تک تمام سلسلہ اس نتیجہ کو چاہتا ہے کہ آتھم کا وہ خوف جس کا اس کو اقرار ہے صرف پیشگوئی کی عظمت کی وجہ سے تھا نہ کسی اور و!جہ سے۔
اور آتھم کے دروغ گو ہونے پر وہ اختلاف اور تناقض بھی شاہد ہے جو اس کے دعویٰ عیسائیت اور اس قدر بزدلی سے مترشح ہو رہا ہے کیونکہ اس نے عیسائیت کا اقرار کر کے اسلام کے مقابل وہ خوف دکھلایا کہ جب تک انسان کم سے کم تذبذب کی حالت میں نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا اور نیز اس کی کلام میں یہ
فوجداری میں نالش کرکے ان بہتانوں کو ثابت کراتے اور یا چند گواہوں کے پیش کرنے سے ان کا ثبوت دیتے اور یا جلسہ عام میں قسم کھا لیتے۔ مگر آتھم صاحب نے ان طریقوں میں سے کسی طریق کو اختیار نہیں کیا۔ پھر آتھم صاحب کے جھوٹا ہونے کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ ان الزاموں کو انہوں نے نہ ایام میعاد پیشگوئی میں بیان کیا اور نہ ان ایام کے گزرنے کے بعد ان چاروں حملوں کو یکدفعہ بیان کردیا بلکہ جیسا کہ جھوٹ رفتہ رفتہ فکر اور سوچ کے ساتھ بنایا جاتا ہے ایسا ہی کیا۔ اب اے عزیزو آپ ہی سوچو کہ کیا وہ اس خوف کا اقرار کرکے جو الہامی شرط کا مؤید تھا اس خوف کے کوئی اور اسباب ثابت کرسکا اور کیا وہ اس بات کا کچھ ثبوت دے سکا کہ درحقیقت اس پر چار حملے ہوئے اور انہیں حملوں کی و!جہ سے اس کا یہ ساراخوف تھا۔ منہ