کونسی ؔ چیز ان کو مانع ہے۔ آتھم کا مقدمہ ایک ایسا صاف ہے کہ اگریہ بہ ہیئت کذائی چیف کورٹ کے ججوں کے سامنے بھی پیش ہو تو ان سے کچھ نہیں بن سکے گا بجز اس کے کہ ہمارے حق میں ڈگری دیں۔ کیا آتھم ان بہتانوں میں سے کسی ایک بہتان کو بھی ثابت کرسکا جو اس نے پیشگوئی کی میعاد کے بعد مجھ پر لگائے کیا یہ سفید جھوٹ نہیں کہ بقول اس کے میں نے زہر خورانی کا اقدام کیا۔ جیسا کہ میاں حسام الدین عیسائی کشف الحقائق پرچہ اگست ۱۸۹۶ء میں مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ گویا میں نے زہر خورانی کی تجویز کی اور سانپ چھوڑے۔ شاید اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ آتھم کو ایک کراماتی عیسائی بنادیں کیونکہ انجیلوں میں لکھا ہے کہ راستباز مسیحی کی یہ علامت ہے کہ سانپ اس کو ڈس نہ سکے اور زہر اس میں اثر نہ کرسکے۔ سو گویا یہ دونوں کرامتیں آتھم سے ظہور میں آگئیں اب اس کے ولی ہونے میں کیا کسر رہ گئی۔ لیکن عقلمند خوب سمجھتے ہیں کہ یہ ساری باتیں اس خوف کے چھپانے کے لئے ہیں جس نے آتھم کو پیشگوئی سننے کے بعد ہوش و حواس سے الگ کر دیا تھا۔ اگر یہ بات صحیح نہیں ہے تو کوئی ثبوت پیش کرنا چاہئے تھا کہ یہ خوف آتھم صاحب کا جس کا ان کو اقرار ہے اس سبب سے نہیں تھا جو پہلے موجود تھا وہی سبب جس سے طبعی طور پر متاثر ہونا ممکن بھی تھا جس کی فریق ثانی کو بوجہ موجودگی شرط کے انتظار بھی تھی یعنی الہامی پیشگوئی۔ بلکہ یہ خوف اس وجہ سے ہوا کہ فریق ثانی درحقیقت خون کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ کیا آتھم صاحب نے کوئی ایسے قرائن ثابت شدہ پیش کئے جن سے شبہ بھی گزر سکتا ہو کہ خونریزی کی نیت کی گئی تھی۔ پھر اگر یہ پہلو ڈرنے کا غیر ثابت اور غیر معقول تھا اور چار حملے جو بیان کئے گئے ان میں علاوہ عدم ثبوت کے بناوٹ کی بدبو بھی ظاہر تھی تو ایک عادل جج کو ماننا پڑتا ہے کہ ڈرنے کی کوئی اور و!جہ ہوگی۔ پس وہ اور و!جہ بجز اس کے کیا تھی کہ آتھم صاحب عرصہ تیس برس سے میرے حال اور میرے چال چلن سے بخوبی واقف تھے اور ہمارے اس ضلع میں وہ مدت تک اسی علاقہ کی تحصیل میں ملازم بھی رہ چکے تھے ان کو خوب معلوم تھا کہ یہ شخص کاذب نہیں اور نیز سچائی کی ذاتی خاصیت نے اسی وقت ان کو ہراساں اور