ترساں کردیا تھا۔ سو اسی لئے وہ ڈرے اور ان کے ڈرنے نے ان کو اس وقت تک مرنے سے محفوظ رکھا جب تک ان سے بیباکی پر اصرار ظاہر ہوا۔ سو میعاد گزرنے کے بعد شیطان نے ان کے دل میں شبہات ڈالے کہ پیشگوئی کچھ چیز نہیں۔ بہرحال بچنا ہی تھا۔ سو یہ شبہات بڑھتے گئے اور قوت پکڑ گئے یہاں تک کہ وہ ہمارے اشتہار ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء کے شائع ہونے تک پورے منکر اور بیباک ہوچکے تھے۔ سو خدا نے ان کو جیسا کہ پیشگوئی میں وعدہ تھا اور پہلے شائع ہوچکا تھا بیباکی کے بعد اشتہار آخری سے سات مہینہ تک لے لیا اور ابھی یہ ہمارے آخری اشتہار شائع ہورہے تھے کہ ان کی موت کی خبر پہنچ گئی۔
افسوس کہ عیسائیوں کی تمام دیانت آزمائی کے لئے یہ پہلا موقعہ تھا۔ مگر کسی نے بھی ان میں سے سچ کی پرواہ نہ کی۔ یہاں تک کہ ایڈیٹر سول ملٹری نے جس کو آزادی اور راست گوئی کا دعویٰ تھا اس مقام میں گندہ جھوٹ بولا۔ حسام الدین پر تو کچھ بھی افسوس نہیں کیونکہ یہ لوگ جو پادریانہ مشرب رکھتے ہیں اکثر وہ جھوٹ کے پتلے اور نجاست خوری کے کیڑے ہیں ان کو نہ فطرتی حیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کا خوف۔
یہ کہنا غلط ہے کہ بباعث بے خبری یہ لوگ معذورہیں کیونکہ میں نے اس مقدمہ میں پانچ ہزار کے قریب اشتہار جاری کیا ہے اور کھلے کھلے دلائل کے ساتھ دکھلا دیا ہے کہ آتھم خدا اور خلقت کے نزدیک ملزم ہے*اور پیشگوئی اپنے دو پہلوؤں میں سے ایک پہلو پر پوری ہوچکی ہے۔ پھر کیونکر
یہ کس کو خبر نہیں کہ آتھم صاحب نے پرچہ نور افشاں میں صاف اقرار چھپوایا کہ میں اثناء ایام پیشگوئی میں ضرور خونی فرشتوں سے ڈرتا رہا۔ یہ کس کو معلوم نہیں کہ ڈرنے کی علامات ان سے اس قدر صادر ہوئیں کہ جن کو چھپانا ممکن نہیں۔ کون عیسائی اس سے انکار کرے گا کہ آتھم صاحب ایام پیشگوئی میں روتے رہے۔ کس کے کانوں تک یہ خبر نہیں پہنچی کہ اس وقت بھی آتھم صاحب کے آنسو نہیں تھمے تھے جبکہ وہ اکراہ اور جبر کے طور پر پیشگوئی کے دنوں میں عیسائیوں کے جلسہ میں بلائے گئے۔ پھر جب تھوڑے دنوں کے بعد آتھم صاحب کے ہوش و حواس قائم ہوئے اور قوم کے خنّاسوں کا اثر ان پر پڑا اور دل سخت ہوگیا تب ان کو سمجھ آیا کہ یہ میں نے اچھا نہیں کیا کہ اسلامی پیشگوئی کے خیال سے اس قدر
بے قراری ظاہر کی۔ تب زہر خورانی کے اقدام کا منصوبہ اور تین حملوں کا بہانہ بنایا گیا کیونکہ جس قدر خوف