دینےؔ سے اور نہ قسم کھانے سے اور نہ کسی خانگی طور سے۔ اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی منصف کا کانشنس ہرگز یہ گواہی نہیں دے گا کہ درحقیقت واقعی طور پر یہ حملے ہوئے تھے۔ میں دشمنوں سے اس وقت امید نہیں رکھتا کہ وہ اپنے کانشنس سے مجھ کو اطلاع دیں مگر ایک حق پسند کے لئے یہ ثبوت تسلی بخش ہے کہ آتھم نے ان چار الزاموں میں سے کسی الزام کو ثابت نہیں کیا بلکہ قسم کھانے سے بھی اعراض کیا جس سے بآسانی صفائی ہوسکتی تھی۔ اور اس سوال کا جواب ہریک منصف کا کانشنس دے سکتا ہے کہ ان بہتانوں کے لئے اس کو کونسی ضرورت پیش آئی تھی۔ کیا بجز اس کے اور بھی کوئی ضرورت عقل میں آسکتی ہے کہ اس نے بہتانوں کے ساتھ اپنے اس خوف پر پردہ ڈالنا چاہا جو اس کی سراسیمگی کی وجہ سے ہر ایک شخص پر ظاہر ہوچکا تھا۔ کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ جس کی جان لینے کے لئے ہم نے سو کوس تک تعاقب کیا اور بار بار حملے کئے اس کے منہ پر اخیر میعاد تک مہر لگی رہی اور نہ صرف اس کے منہ پر بلکہ ان سب کے منہ پر جنہوں نے ایسے حملہ آوروں کو دیکھا تھا۔ نہ نالش کرنا نہ قسم کھانا نہ خانگی طور پر کوئی گواہ پیش کرنا کیا یہ وہ علامات ناطقہ نہیں ہیں جن سے اصل حقیقت کھلتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صرف پیشگوئی کی شرط سے لوگوں کے خیالات ہٹانے کے لئے یہ حرکت مذبوحی تھی۔ مگر تاہم اگر اب تک کسی عیسائی کو آتھم کے اس افترا پر شک ہو تو آسمانی شہادت سے رفع شک کرا لیوے۔ آتھم تو پیشگوئی کے مطابق فوت ہوگیا اب وہ اپنے تئیں اس کا قائم مقام ٹھہرا کر آتھم کے مقدمہ میں قسم کھا لیوے۔ اس مضمون سے کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ اس پر یہ چار حملے ہوئے تھے۔ اگر یہ قسم کھانے والا بھی ایک سال تک بچ گیا تو دیکھو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے شائع کردوں گا کہ میری پیشگوئی غلط نکلی۔ اس قسم کے ساتھ کوئی شرط نہ ہوگی۔ یہ نہایت صاف فیصلہ ہو جائے گا اور جو شخص خدا کے نزدیک باطل پر ہے اس کا بطلان کھل جائے گا۔ اگر عیسائی لوگ سچے دل سے یقین رکھتے ہیں کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی تو اس طریق امتحان سے