سو ؔ بلاشبہ پیشگوئی نے میعاد کے اندر اس ہاویہ کا مزا ان کو چکھا دیا جس ہاویہ کی تکمیل رفتہ رفتہ ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو ہوگئی اور ضرور تھا کہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں ہاویہ کے پورے اثر سے بچے رہتے۔ کیونکہ انہوں نے اسلامی پیشگوئی کا ڈر اپنے پر ایسا غالب کیا کہ ایک قسم کی موت ان پر آگئی وہ مردوں کی طرح چپ ہوگئے اور عیسائیت کے پلید عقائد کی حمایت میں جو پہلے تالیفات کرتے رہتے تھے ان سے یکلخت دستکش ہوگئے اور خوف کے صدمات نے ان کو سراسیمہ کردیا پس کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے الہام کی شرط کے موافق موت کو دوسرے وقت پر ٹال دیتا۔ اور کیا ان کی موت سے پہلے یہ پیشگوئی شائع نہیں کی گئی کہ انکار قسم کے اصرار پر یہ پیشگوئی پورے طور پر پوری ہو جائے گی۔ سو اب بیشک آتھم صاحب پیشگوئی کے مطابق مرے اور آخری انکار کے بعد صرف سات مہینے زندہ رہے۔
سو یہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ ہریک شریف عیسائی کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہوگا کہ آتھم باطل اندیش نے پیشگوئی کی سچائی کو چھپانے کے لئے کیا کیا مکروہ اور نالائق افتراؤں سے کام لیا اور کس طرح دلیری کے ساتھ بے بنیاد جھوٹ کو پیش کیا۔ نالائق آتھم نے سراسر بے وجہ مجھے زہر خورانی کے اقدام کی تہمت دی۔ میرے پر یہ افترا باندھا کہ گویا میں نے اس کے قتل کرنے کے لئے اس کی کوٹھی میں سانپ چھوڑے تھے۔ اور گویا میں ایسا پرانا خونی تھا کہ تین مرتبہ میں نے تین مختلف شہروں میں اس کے مارنے کے لئے اپنی جماعت کے جوانوں سے حملے کرائے اور کئی سوار اور پیادے معہ بندوقوں اور تلواروں اور نیزوں کے اس کی کوٹھی میں لودیانہ اور فیروز پور میں میرے حکم سے گھس گئے۔ خدا کی *** کا مارا بہت سا جھوٹ بول کر بھی آخر موت سے بچ نہ سکا۔ شرطی پیشگوئی سے تو اس کی جان بوجہ ادائے شرط کی بچ گئی لیکن قطعی پیشگوئی نے آخر اس کو کھا لیا۔
میں اپنے اشتہارات انوارالاسلام وغیرہ اور ضیاء الحق میں نہایت دلائل قاطعہ سے ثابت کر چکا ہوں کہ آتھم کا یہ نہایت گندہ جھوٹ ہے کہ اس نے ان حملوں کا میرے پر الزام لگایا اور ایک راستباز انسان کی طرح کبھی یہ ارادہ نہ کیا کہ اس الزام کو ثابت کرے نہ نالش سے نہ بذریعہ پولیس ثبوت