دام اندازیؔ کہ انہوں نے یہودیوں کو داؤد کے تخت کی امید دلائی تا وہ لوگ اگر اور طرح نہیں تو اسی طرح ان کے قبضہ میں آجائیں۔ مگر چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف و گزاف سے اپنی زبان کو بچاتے اور اسی پہلی بات پر قائم رہتے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کرسکے اور اپنے پہلے پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچانے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کرلیا۔ دعویٰ خدائی کا اور پھر یہ چال بازیاں۔ جائے تعجب ہے۔
اور یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔
قولہ ۔ ہر ایک شریف مسلمان کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہوگا کہ مسلمان مخالفین نے ان کے یعنی آتھم صاحب کے مارنے کے لئے وحشیانہ حرکتیں کیں ان کے گھر میں زندہ سانپ چھوڑے گئے ان کو زہر کھلانے کی تجویز کی گئی۔
اقول ۔ میں پوچھتا ہوں کہ اب آتھم صاحب جو مرگئے کس زہر سے مارے گئے یا کس سانپ نے ان کو ڈسا یا کس نے ان پر بندوق فیر کی یا تلوار چلائی۔ اگر کہو کہ اب پیشگوئی کی میعاد کے بعد فوت ہوئے تو یہ صاف حماقت ہے کیونکہ پیشگوئی نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا تھا کہ ضرور اس کی میعاد کے اندر ہی فوت ہوں گے۔ بلکہ پیشگوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا تو صرف اس حالت میں پیشگوئی کے اندر فوت ہوں گے ورنہ ان کی موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی۔ ہاں کسی قدر ہاویہ کا بھی مزہ چکھ لیں گے