جھوٹؔ بولنا ان کی وراثت ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر انحراف سے ان کی مراد کسی ایک آدھ ناسمجھ کا انحراف ہے تو آپ کے یسوع صاحب پر سب سے پہلے یہ الزام ہے کیونکہ یہودا اسکریوطی یسوع صاحب سے بڑے زور شور کے ساتھ منحرف ہوا تھا اور نہ صرف منحرف ہوا بلکہ نہایت بدظن ہوکر یہ چاہا کہ ایسا شخص ہلاک ہی ہوجائے تو بہتر ہے۔ تیس روپیہ لینے پر اسی وجہ سے راضی ہوا کہ یہ رقم قلیل بھی اس کے وجود سے بدرجہا افضل ہے۔
بات یہ ہے کہ یسوع صاحب نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ میں داؤد کے تخت کو قائم کرنے آیا ہوں اور اس طرح پر یہود کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا کہ دیکھو میں تمہاری بادشاہی پھر دنیا میں دوبارہ قائم کرنے آیا ہوں اور رومی گورنمنٹ سے اب جلد تم آزاد ہوا چاہتے ہو۔ مگر وہ بات نہ ہوئی بلکہ حضرت یسوع صاحب نے نہایت درجہ کی ذلت دیکھی۔ مُنہ پر تھوکا گیا۔ اور آپ کے اس حصہ جسم پر کوڑے لگائے گئے جہاں مجرموں کو لگائے جاتے ہیں اور حوالات میں کیا گیا۔ پس یہودا اور ایسا ہی اور بہت سے آدمیوں نے بخوبی سمجھ لیا کہ اس شخص کی پیشگوئی صاف جھوٹی نکلی اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔
لہٰذا انہوں نے اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کیا۔ اور ان کے دل پہلے ہی سے شکستہ ہوگئے تھے کیونکہ پہلے نبیوں کی پیشگوئیوں کے مطابق یسوع میں مسیح موعود ہونے کی علامتیں نہ پائی گئیں۔ اور خاص کر یہ کہ ان سے پہلے ایلیا آسمان سے نہ اُترا جس کا اُترنا ضروری تھا۔
اور پھر اس بات سے تو طبیعتیں نہایت بیزار ہوگئیں کہ داؤد کے تخت کے بحال کرنے کی پیشگوئی جو مسیح موعود کی علامت تھی ان کے حق میں صادق نہ آئی۔ انہوں نے دعویٰ بھی کردیا کہ میں پہلے نبیوں کی پیشگوئی کے مطابق داؤد کے تخت کو پھر بحال کرنے آیا ہوں بلکہ شوق ظاہر کیا کہ لوگ مجھ کو شہزادہ کہیں مگر ان کی بدقسمتی سے داؤد کا تخت بحال نہ ہوا اور وہ دعویٰ جھوٹا نکلا۔ اور درحقیقت یسوع صاحب کی یہ ایک فضولی تھی اور یا ایک قسم کی چالاکی اور