طرفؔ سے کوئی اقدام ہوا تھا تو اس کو خدا نے خوب موقعہ دیا تھا کہ ہماری پیشگوئی کی قلعی کھولتا اور حملہ آوروں کو پکڑتا اور ان حملوں کے وقوع کا ثبوت دیتا۔ یا کم سے کم اثناء پیشگوئی میں کسی تھانہ میں رپورٹ لکھواتا یا کسی حاکم سے ذکر کرتا۔ یا اخباروں میں چھپوا دیتا۔ جس شخص نے اول جھوٹی پیشگوئی کرکے اس قدر اس کے دل کو دکھایا اور اس درجہ کا صدمہ پہنچایا اور پھر زہر دینے کی فکر میں رہا۔ اور پھر تین حملے کئے تااس کو نیست و نابود کرے اور اس کی موت کو اس کے مذہب کے بطلان پر دلیل لاوے۔ کیا ضرور نہ تھا کہ ایسے ظالم کے ظلم پر ہرگز صبر نہ کیا جاتا۔ اگر اپنے لئے نہیں تو اپنے مذہب کی حمایت کے لئے ہی ایسے مفسد کا واجب تدارک کرنا چاہئے تھا۔ چنانچہ اخبار والوں نے بھی ہر طرف سے زور دیا کہ آتھم صاحب لوگوں پر احسان کریں گے اگر ایسے مفسد کو عدالت کے ذریعہ سے سزا دلائیں گے۔ مگر آتھم صاحب موت سے پہلے ہی مرگئے اور ہماری سچائی کے پوشیدہ ہاتھ نے انہیں ایسا دبایا کہ گویا وہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوگئے۔
دنیا تمام اندھی نہیں ہریک منصف سوچ سکتا ہے کہ جو ناحق کے الزاموں کے تیر انہوں نے میری طرف پھینکے تھے وہی تیر بوجہ عدم ثبوت ان کو زخمی کرگئے اور ان افتراؤں سے عقلمندوں نے سمجھ لیا کہ ضرور دال میں کالا ہے۔
غرض جبکہ وہ اس بار ثبوت سے سبکدوش نہ ہوسکے جس سے انہیں سبکدوش ہونا چاہئے تھا بلکہ قسم کھانے سے بھی محض حق پوشی کے طریق پر انکار کرگئے تو کیا اب بھی یہ ثابت نہ ہوا کہ ضرور انہوں نے پیشگوئی کی عظمت کا خوف دل میں ڈال کر اس شرط سے فائدہ اٹھایا تھا جو الہامی عبارت میں درج تھی۔
قولہ ۔ قادیانی صاحب کے پیرو پیشگوئی کے سبب سے ان سے منحرف ہوگئے۔
اقول۔ میاں حسام الدین کی یہ دروغ گوئی درحقیقت افسوس کی جگہ نہیں کیونکہ جبکہ ان کے بزرگ عیسائی ایک مردہ کو خدا بنانے کے لئے کئی جھوٹی انجیلیں بناکر چھوڑ گئے
تو