راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افترا میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ ؔ جواب دیتے جو ان کی بد اصلی کے مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب ُ بردباریاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ ان احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کئے اور نہایت بدذاتی ہوگی اگر ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی ہم میں سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ملی ہیں بلاشبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا۔ اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں اور اگرچہ گورنمنٹ لیکن ہرگز یہ درست نہیں ہوگا کہ بغیر ان دونوں قسم کے التزام کے اپنے ہی خیال اور رائے سے معنی کریں کاش اگر پادرؔ ی عماد الدین وغیرہ اس طریق کا التزام کرتے تو نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کی ہلاکت کا موجب ٹھہرتے۔ دوسری نصیحت اگر پادری صاحبان سنیں تو یہ ہے کہ وہ ایسے اعتراض سے پرہیز کریں جو خود ان کی کتب مقدسہ میں بھی پایا جاتا ہے مثلاً ایک بڑا اعتراض جس سے بڑھ کر شاید ان کی نظر میں اور کوئی اعتراض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نہیں ہے وہ لڑائیاں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو باذن اللہ ان کفار سے کرنی پڑیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر مکہ میں تیرہ برس تک انواع اقسام کے ظلم کئے اور ہریک طریق سے ستایا اور دکھ دیا اور پھر قتل کا ارادہ کیا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معہ اپنے اصحاب کے مکہ چھوڑنا پڑا اور پھر بھی باز نہ آئے اور تعاقب کیا اور ہریک بے ادبی اور تکذیب کا حصہ لیا اور جو مکہ میں ضعفاء مسلمانوں میں سے رہ گئے تھے ان کو غایت درجہ دکھ دینا شروع کیا لہذا وہ لوگ خداتعالیٰ کی نظر میں