فنڈل صاحب وغیرہ صاحبان اور ؔ آریہ صاحبوں میں سے منشی کنہیالال الکھ دہاری اور منشی اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری نے اپنا یہی اصول مقرر کر لیا کہ ناحق کے افتراؤں اور بے اصل روایتوں اور بے بنیاد قصوں کو واجبی اعتراضات کی مدافعت میں پیش کیا۔ مگر اصل قصور تو اس میں پادری صاحبوں کا ہے کیونکہ ہندؤں نے اپنے ذاتی تعصب اور کینہ کی وجہ سے جوش تو بہت دکھلایا مگر براہ راست اسلام کی کتابوں کو وہ دیکھ نہ سکے وجہ یہ کہ بباعث جہالت اور کم استعدادی دیکھنے کا مادہ نہیں تھا۔ سو انہوں نے اپنی کتابوں میں پادریوں کے اقوال کا نقل کر دینا غنیمت سمجھا۔ غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پاکر افتراؤں کو انتہا تک پہنچا دیا اور ناحق بے وجہ اہل اسلام کا دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بد ذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر بہتان لگائے۔ یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جو ان کے اصل میں تھی اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی عرض کیا چاہتے ہیں۔ ا ول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر ان بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ؔ ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تواتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگرچہ انجیل کے معنے کرنے کے وقت ہریک بے قیدی کے مجاز ہوں۔ مگر ہم مجاز نہیں ہیں اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے۔ قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر کریں تو اس طور سے کرنے چاہئے کہ دوسری قرآنی آیتیں ان معنوں کی مؤیّد اور مفسّر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو۔ کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے معنی جانتا ہے۔ غرض اتم اور اکمل طریق معنے کرنے کا تویہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیح مرفوع متصل نہ مل سکے تو ادنیٰ درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں۔