کی عنایات سے ہریک کو اشاعت مذہب کے لئے آزادی ملی ہے لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اس آزادی کا پورا پورا فائدہ محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں اور اگر عمداً آپ نہ اٹھاویں تو ان کی بدقسمتی ہے وجہ یہ ہے کہؔ گورنمنٹ نے اپنی عام مہربانیوں کی وجہ سے مذہبی آزادی کا ہریک قوم کو عام فائدہ دیا اور کسی کو اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا لیکن جن مذہبوں میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں اور انکے اصول صرف انسانی بناوٹ ہیں اور ایسے قابل مضحکہ ہیں جو ایک محقق کو ان کی بیہودہ کتھا اور کہانیاں سنکر بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کیونکر ان مذہبوں کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جما سکتے ہیں اور کیونکر ایک پادری مسیح کو خدا کہتے ہوئے ایک دانشمند شخص کو اس حقیقی خدا پر ایمان رکھنے سے برگشتہ کر سکتا ہے جس کی ذات مرنے اور مصیبتوں کے اٹھانے اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے اور پھر مصلوب ہو جانے سے پاک ہے اور جس کا جلالی نام قانون قدرت کے ہریک صفحہ میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم نے خود بعض منصف مزاج عیسائیوں اپنے ظالمانہ کاموں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ ان پر موافق سنت قدیمہ الٰہیہ کے کوئی عذاب نازل ہو اور اس عذاب کی وہ قومیں بھی سزاوار تھیں جنہوں نے مکہ والوں کو مدد دی اور نیز وہؔ قومیں بھی جنہوں نے اپنے طور سے ایذا اور تکذیب کو انتہا تک پہنچایا۔ اور اپنی طاقتوں سے اسلام کی اشاعت سے مانع آئے سو جنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھائیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیرخوار بچے قتل کئے گئے کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا ناحق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔ اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیرخوار بچوں کو قتل نہیں کیا۔ اور نہ عورتوں کو اور نہ بڈھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا۔ اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گرجاؤں کو مسمار کیا۔ لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا۔ یہاں تک