نوٹسؔ
بنام آریہ صاحبان و پادری صاحبان و دیگر صاحبان مذاہب مخالفہ ان مسلمانوں کی
طرف سے جن کے نام
نیچے درج ہیں و نیز ایک التماس
گورنمنٹ عالیہ کی
توجہ کے لائق
اے صاحبان مندرجہ عنوان نہایت ادب اور تہذیب سے آپ صاحبوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم سب فرقے مسلمان اور
ہندو اور عیسائی وغیرہ ایک ہی سرکار کے جو سرکار انگریزی ہے رعایا ہیں۔ لہٰذا ہم سب لوگوں کا فرض ہے کہ ایسے امور سے دستکش رہیں جن سے وقتاً فوقتاً ہمارے حکام کو دقتیں پیش آویں یا بیہودہ
نزاعیں باہمی ہوکر کثرت سے مقدمات دائر ہوتے رہیں اور نیز جبکہ ہمسائیگی اور قرب و جوار کے حقوق درمیان ہیں تو یہ بھی مناسب نہیں کہ مذہبی مباحثات میں ناحق ایک فریق دوسرے فریق پر بے
اصل افترا قائم کر کے اس کا دل دکھاوے اور ایسی کتابوں کے حوالے پیش کرے۔ جو اس فریق کے نزدیک مسلم نہیں ہیں یا ایسے اعتراض کرے جو خود اپنے دین کی تعلیم پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ چونکہ
اب تک مناظرات و مباحثات کے لئے کوئی ایسا قاعدہ باہم قرار یافتہ نہیں تھا جس کی پابندی یاوہ گو لوگوں کو ان کی فضول گوئی سے روکتی۔ لہٰذا پادریوں میں سے پادری عماد الدین و پادری ٹھاکر داس و
پادری
پادری صاحبان اگر ہماری اس نصیحت کو غور سے سنیں تو بیشک اپنی بزرگی اور شرافت ہم پر ثابت کریں گے اور اس حق پسندی اور صلح کاری کے موجب ہوں گے جس سے ایک راستباز
اور پاک دل شناخت کیا جاتا ہے۔ اور وہ نصیحت صرف دو باتیں ہیں جو ہم پادری صاحبوں کی خدمت میں