اور پھر دیانند نے وید کی صاف صاف شرتیاں نیوگ کے بارے میں لکھ دیں اور خوب تاڑ تاڑ کر سکتوں اور شرتیوں کے حوالے
دئیے۔ اب دیانند پر کون الزام لگا سکتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے نیوگ کا مسئلہ گھڑ لیا ہے۔ اور یہ کہنا کہ اگر وید ایسا ہوتا تو پھر ودّیادان لوگ کیونکر اس کو مانتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بڑے
بڑے ودیاوان بھی نیوگ کو مانتے رہے ہیں بلکہ وہ لوگ اپنے گھروں میں نیوگ کراتے رہے ہیں جو اپنے وقت کے رشی اور رکھی اور اوتار تھے کیا پانڈوں اور ان کی جورو کی کتھا آپ نے نہیں پڑھی اگر
نہیں پڑھی تو اب ضرور پڑھیں کہ کیسے مہاتما نیوگ کے کاربند رہے ہیں اور نیوگ بھی زندہ خاوند والی عورت کا۔ اور پھر سوا اس کے غور کرنا چاہئے کہ کیا منوجی ودّیان کم تھے یا یاگولک جی کی
ودیا میں کچھ کلام تھا بلکہ یہ تمام لوگ ہندو دھرم کے ستون اور مدارالمہام گذرے ہیں اور وید کی دوسری عمدہ تعلیمیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے کونسی تعلیم مراد ہے۔
وید میں سے اگر فضول قصے اور بے سروپا کہانیاں الگ کر دی جائیں تو باقی خلاصہ اس کا صرف دو تین باتیں رہ جاتی ہیں یعنی عناصر پرستی اور آفتاب پرستی اور ستارہ پرستی اور نیوگ۔ پس اگر
یہی عمدہ تعلیم ہے تو آپ سے کیا بحث کریں۔ ہاں ایک تناسخ بھی ہے مگر سوچنے سے آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ تناسخ ہی وید پر اول درجہ کا داغ ہے جس کی وجہ سے آپ کا پرمیشر تمام خدائی
طاقتوں سے معطل ہوگیا اور معزول راجوں کی طرح صرف نام کا پرمیشر رہ گیا اور اگر غور کر کے دیکھو تو یہ تناسخ پرمیشر کے وجود کا دشمن ہے۔ آواگون یعنی تناسخ کے ماننے والے پرمیشر کو
ہرگز مان نہیں سکتے۔ اور نیز آواگون میں بھی ایک نیوگ کی رگ ہے کیونکہ اگر آواگون کی صورت میں کسی شخص کی فوت شدہ والدہ جو اس کی پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئی تھی پھر جنم لے کر اس
کی عورت بنائی جاوے تو کیونکر وہ شناخت کر سکتا ہے کہ یہ میری والدہ ہے۔ غرض کہ وید کی پاک تعلیمیں یہی ہیں جو ایک دوسرے سے مشابہ ہیں اور نیوگ کی حالت میں تو ایک آریہ آپ زندہ موجود
ہو کر اپنی بیوی کو عین بیوی ہونے کی حالت میں دوسرے سے ہم بستر کراتا ہے مگر تناسخ یعنی آواگون میں اپنی ماں سے بھی ہم بستر ہو سکتا ہے۔ پس وید کی مقدس تعلیمیں سب مساوی ہیں۔ ایں خانہ
تمام آفتاب ست۔ منہ
* **