تاکہ کروائیں پھر اسے گندی پاک ہونے کی انتظاری ہے یعنی حیض سے پاک ہونے کی انتظاری ہے خاک میں ملتے ہیں پسر کے لئے کیا مزاجوں میں خاکساری ہے قابل شرم بھیک لیتے ہیں بھیک کی رسم یہ نیاری ہے گھر بہ گھر ہیں نیوگ کے چرچے نہ حیا ہے نہ شرمساری ہے گو زمانہ میں روشنی پھیلی ان پہ اندھیرا اب بھی طاری ہے کیا کریں وید کا یہی ہے حکم ترک کرنا گناہ گاری ہے ہے یہ قرآن کی دشمنی کا وبال بالیقین رائے یہ ہماری ہے بعضؔ آریہ اپنے تئیں نہایت منصف مزاج ظاہر کر کے کہا کرتے ہیں کہ درحقیقت ہم بھی نیوگ کو نہایت ناپاکی کا طریق سمجھتے ہیں اور جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں ہم دیانند کی ساری باتوں کے پیرو نہیں یہ صرف دیانند کا خیال ہے اور وید مقدس کا دامن اس سے پاک ہے۔ بھلا یہ ممکن ہے کہ کوئی بھلامانس ایسی گندی حرکت کرے اور اگر وید میں یہ گندی تعلیم ہوتی تو بڑے بڑے ودّیا دان کیونکر اس کو مانتے۔ اور نیز اگر وید میں ایسی گندی تعلیم ہوتی تو عمدہ تعلیمیں کیونکر اس میں درج ہوسکتیں۔ سو ان صاحبوں کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دیانند کی واقفیت آپ لوگوں کی واقفیت سے بہت زیادہ تھی اور وہ بھی آپ لوگوں کی طرح وید کے لئے غیرت رکھتا تھا۔ پس اگر وید میں یہ مسئلہ یقینی اور واقعی طور پر نہ ہوتا تو وہ دانستہ ایسا کلنگ وید پر ہرگز نہ لگاتا بلکہ اگر اس کیلئے ممکن ہوتا تو وہ آپ لوگوں سے ہزار حصہ زیادہ کوشش کرتا کہ تا یہ گندی تعلیم وید کی ظاہر نہ ہو۔ اب خود سوچنا چاہئے کہ دیانند کو کیا کچھ مشکلات پیش آئے اور خدا جانے کس قدر صراحت سے اور کھلے کھلے طور پر نیوگ کی تعلیم اس نے وید میں دیکھی جس کو وہ کسی حیلہ اور تدبیر سے چھپا نہ سکا آخر اس کو اقرار کرنا ہی پڑا اور اس بات پر جم گیا کہ خیر نیوگ میں کچھ مضائقہ نہیں۔