زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں
جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
لائق سوختن ہیں ان کے مرد
ان کی ناری ہر ایک ناری
ہے
واہ وا کیا دھرم ہے کیا ایمان
جس میں واجب حرام کاری ہے
آریو! دل میں غور سے سوچو
شرم و غیرت کہاں تمہاری ہے
جس کو کہتے ہیں آریوں میں نیوگ
ناک کے کاٹنے کی
آری ہے
کچھ نہیں سوچتے یہ دشمن شرم
کہ یہ پوشیدہ ایک یاری ہے
مرتکب اس کا ہے بڑا دیوث
اعتقاد اس پہ بدشعاری ہے
غیر مردوں سے مانگنا نطفہ
سخت خبث اور نابکاری
ہے
غیرؔ کے ساتھ جو کہ سوتی ہے
وہ نہ بیوی زن بزاری ہے
ہے وہ چنڈال دشٹ اور پاپی
جفت اس کی کوئی چماری ہے
ہیں کروڑوں نیوگ کے بچے
آریہ دیس میں یہ خواری
ہے
ایسی اولاد پر خدا کی مار
یہ نہ اولاد قہر باری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے
ساری شہوت کی بیقراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط
یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے
کرواچکی زنا لیکن
پاک دامن ابھی بچاری ہے
لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں
ان کی لالی نے عقل ماری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یارونکو
ایسی جورو کی پاسداری ہے
اس کے
یاروں کو دیکھنے کے لئے
سر بازار ان کی باری ہے
جورو جی پر فدا ہیں یہ جی سے
وہ نیوگی پہ اپنے واری ہے
شرم و غیرت ذرا نہیں باقی
کس قدر ان میںُ بردباری ہے
ہے قوی
مرد کی تلاش انہیں
خوب جورو کی حق گذاری ہے