سفر میں جاتا جس میں کئی سال کی توقف ہوتی تو وہ عورت کو ساتھ لے جاتا یا اگر عورت ساتھ جانا نہ چاہتی تو وہ ایک دوسرا نکاح اس ملک میں کرلیتا۔ لیکن عیسائی مذہب میں چونکہ اشد ضرورتوں کے وقت میں بھی دوسرا نکاح ناجائز ہے اس لئے بڑے بڑے مدّ بر عیسائی قوم کے جب ان مشکلات میں آ پڑتے ہیں تو نکاح کی طرف ان کو ہرگز توجہ نہیں ہوتی اور بڑے شوق سے حرام کاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے ایکٹ چھاؤنی ہائے نمبر ۱۳ ،۱۸۸۹ء پڑھا ہوگا وہ اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ عیسائی مذہب کی پابندی کی وجہ سے ہماری مد ّ بر گورنمنٹ کو بھی یہی مشکلات پیش آگئیں۔ ناظرین جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کس قدر دانا اور دور اندیش اور اپنے تمام کاموں میں بااحتیاط ہے اور کیسی کیسی عمدہ تدابیر رفاہ عام کے لئے اس کے ہاتھ سے نکلتی ہیں اور کیسے کیسے حکماء اور فلاسفر یورپ میں اس کے زیر سایہ رہتے ہیں مگر تاہم یہ دانا گورنمنٹ مذہبی روکوں کی وجہ سے اس کام میں احسن تدابیر پیدا کرنے سے ناکام رہی ہے۔ یوں تو اس گورنمنٹ نے اپنی تدبیر اور حکمت اور ایجادات سے یونانیوں کے علوم کو بھی خاک میں ملا دیا مگر جس انتظام میں مذہب کی روک واقع ہوئی اس کے درست کرنے اور ناقابل اعتراض بنانے میں گورنمنٹ قادر نہ ہو سکی اس بات کے سمجھنے کے لئے وہی نمونہ ایکٹ نمبر ۱۳ ،۱۸۸۹ء کافی ہے کہ جب گوروں کو اس ملک میں نکاح کی ضرورت ہوئی تو مذہبی روکوں کی وجہ سے نکاح کا انتظام نہ ہو سکا اور نہ گورنمنٹ اس فطرتی قانون کو تبدیل کر سکی جو جذبات شہوت کے متعلق ہے۔ آخر یہ قبول کیا گیا کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز تعلق ہو۔ کاش اگر اس کی جگہ پر متعہ بھی ہوتا تو لاکھوں بندگان خدا زنا سے تو بچ جاتے۔ ایک مرتبہ گورنمنٹ نے گھبرا کر اس قانون کو منسوخ بھی کر دیا مگر چونکہ فطرتی قانون تقاضا کرتا تھا کہ جائز طور پر یا ناجائز طور پر ان جذبات کا تدارک کیا جائے کہ جن سے جسمانی بیماریاں زور مارتی ہیں لہٰذا اسی پہلے قانون کے جاری کرنے کے لئے اب پھر سلسلہ جنبانی ہو رہی ہے اور ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ اخبار عام ۹ نومبر ۱۸۹۵ء کا وہ مضمون جو اس بحث کے متعلق ہے بجنسہٖ لکھ دیں۔ اور وہ یہ ہے