قانوؔ ن دکھائی
وزارت کے تبدیل ہوتے ہی ولایت کے نامور اور سربر آوردہ اخبار ٹائمز نے جس زور شور سے قانون
دکھائی کو پھر جاری کرنے کے سلسلہ جنبانی کی ہے وہ ناظرین پر ظاہر کی جا چکی ہے۔ کنسرویٹو وزارت سے جو سرکاری عہدہ داران کی رائے کو ہمیشہ بڑی وقعت سے دیکھتی ہے امید ہو سکتی
ہے کہ بالضرور وہ اس معاملہ پر اچھی طرح غور کرے گی۔ کیونکہ اس قانون کی منسوخی کے وقت سرجارج وایٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے جو ُ پرزور مخالفانہ رائے ظاہر کی تھی وہ اس
قابل ہے کہ ضرور کنسرویٹو گورنمنٹ اس پر توجہ کرے گورنمنٹ ہند بھی اس قانون کے منسوخ کرنے پر رضامند نہ تھی پس ان واقعات کی رو سے پورے طور پر خیال ہو سکتا ہے کہ قانون دکھائی پھر
جاری کیا جاوے اس میں شک نہیں ہے کہ قانون دکھائی کے منسوخ ہونے کے دن سے گورہ سپاہیوں کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ برٹش کے بہادر سپاہی بازاروں میں آتشک کی
مریض فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوتے پھرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ حسب رائے کمانڈر انچیف صاحب بہادر بہت خوفناک نکلنے کی امید ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ سرکاری طور پر ہمیں اس بات کی
خبر نہیں ملی کہ سال ۱۸۹۴ء میں کتنے گورے سپاہی مرض آتشک میں مبتلا ہوئے۔ گو مخالفان قانون دکھائی نے مہم چترال کی گورہ فوج کی صحت کو دیکھ کر نہایت مسرت ظاہر کی تھی اور کہا تھا
کہ مویدان قانون دکھائی کی یہ رائے کہ اس قانون کے منسوخ ہونے سے تمام گورہ سپاہ مرض آتشک وغیرہ میں مبتلا ہو جاوے گی غلط ٹھہرتی ہے۔ مگر یہ واقعہ اس قابل نہیں ہے کہ جس سے تشفی ہو
سکے کیونکہ مہم چترال میں چیدہ اور تندرست جوان بھیجے گئے تھے نیز لڑائی اور جنگلی ملک کی وجہ سے وہ کہیں خراب ہوکر بیمار نہیں ہو سکتے تھے۔ اس امر کا دہرانا ضروری نہیں کہ گورے
سپاہی چونکہ بالکل کم تعلیم یافتہ اور دیہاتی نوجوان ہیں نیز بوجہ گوشت خور ہونے کے وہ زیادہ گرم مزاج کے ہیں۔ اس لئے ان سے نفسانی خواہش روکے رکھنے کی امید رکھنا محض لاحاصل ہے۔
قانون دکھائی کے جاری ہونے کے دنوں ہر ایک گورہ پلٹن کے لئے کسبی عورتیں ملازم رکھی جاتی تھیں جن کا ہمیشہ ڈاکٹری معائنہ ہوتا رہتا تھا اور تمام گورہ لوگوں کو ان ملازم رنڈیوں کے علاوہ اور
جگہ