دن تک تھا مگر وحی اور الہام نے اس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ وہ پہلے سے ہی عرب میں عام طور پر رائج تھا
اور جب صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرتؐ نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح مو ّ قت ہے۔ کوئی حرام کاری اس میں نہیں کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسی خاوند والی
عورت دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے بلکہ درحقیقت بیوہ یا باکرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر کیا جاتا ہے تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نکاح نہیں۔ اجتہادی
طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دیدی لیکن خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ اور صدہا عرب کی بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں ایسا ہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اٹھا دیا جاوے
سو خدا نے قیامت تک متعہ کو حرام کر دیا۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہئے۔ کہ نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ہے نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اس میں خاوند والی عورت باوجود زندہ ہونے
خاوند کے دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے۔ لیکن متعہ کی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک باکرہ یا بیوہ ہوتی ہے جس کا ایک مقررہ وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا
ہے۔ سو خود سوچ لو کہ متعہ کو نیوگ سے کیا نسبت ہے اور نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت۔
پھر ماسوا اس کے ہم یہ کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ اسلام ہی میں خوبی ہے کہ اس میں ایک موقت نکاح بھی
حرام کر دیا گیا ہے ورنہ دوسری قوموں پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ادنیٰ ادنیٰ ضرورتوں کے لئے زناکاری کو بھی جائز رکھا ہے بھلا ایک دانشمند نیوگ کے مسئلہ پر ہی غور کرے کہ
صرف اولاد کے لالچ کی وجہ سے اپنی پاکدامن عورت کو نامحرم کے بستر پر لٹا دیا جاتا ہے حالانکہ نہ اس عورت کو طلاق دی گئی نہ خاوند کے تعلقات اس سے ٹوٹے ہیں بلکہ وہ خاوند کی سچی
خیر خواہ بن کر اس کے لئے اولاد پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا ہی عیسائیوں میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو ایک نوجواؔ ن عورت کو دوسرے نوجوان اجنبی مرد سے ہم بغل ہونے سے روکے اور
مرد کو اس عورت کا بوسہ لینے سے منع کرے بلکہ یورپ میں یہ تمام مکروہ باتیں نہایت بے تکلفی سے رائج ہیں اور پردہ پوشی کے لئے ان کاموں کا نام پاک محبت رکھا جاتا ہے۔ سو یہ ناقص تعلیم کے
بدنتائج ہیں۔ اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی ایسے