چھٹے یہ بھی حکم ہے کہ جو بچہ نیوگ سے پیدا ہوگا وہ اسی مرد کا ہوگا جس نے اپنی عورت کو اولاد کی خواہش سے کسی
دوسرے سے ہم بستر کرایا ہے۔ اس مرد کا ہرگز نہیں ہوگا جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہوا ہے۔
ساتویں یہ بھی حکم ہے کہ وہ بیٹا جو بیرج داتا یعنی نیوگ کرنے والے کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے وہ اُسی
مرد کا وارث ہوگا جس نے اپنی عورت کو اولاد کی خواہش سے دوسرے سے ہم بستر کرایا ہے۔ اور بیرج داتا یعنی جس کا نطفہ عورت کے اندر گیا ہے کچھ حق اس لڑکے پر نہیں رکھے گا اور کوئی
ادب اور لحاظ اس کا حق کے طور پر نہیں ہوگا اور لڑکا اس کے مال کا وارث نہیں ہوگا بلکہ اسی مرد کا وارث ہوگا جس نے اپنی پاک دامن عورت کو اولاد کی خواہش سے دوسرے سے ہم بستر کرایا
ہے۔ اسی طرح اور بھی احکام نیوگ کے ہیں جو ہم لکھ چکے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے دیکھنے والوں پر ظاہر ہوگا کہ اسلام میں متعہکے احکام ہرگز مذکور نہیں نہ قرآن میں اور نہ احادیث میں۔ اب
ظاہر ہے کہ اگر متعہ شریعت اسلام کے احکام میں سے ایک حکم ہوتا تو اس کے احکام بھی ضرور لکھے جاتے اور وراثت کے قواعد میں اس کا بھی کچھ ذکر ہوتا۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ متعہ اسلامی
مسائل میں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بعض احاد حدیثوں پر اعتبار کیا جائے تو صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ جب بعض صحابہ اپنے وطنوں اور اپنی جورؤں سے دور تھے تو ایک دفعہ ان کی
سخت ضرورت کی وجہ سے تین دن تک متعہ ان کے لئے جائز رکھا گیا تھا اور پھر بعد اس کے ایسا ہی حرام ہوگیا جیسا کہ اسلام میں خنزیر و شراب وغیرہ حرام ہیں اور چونکہ اضطراری حکم جس
کی ابدیت شارع کا مقصوؔ د نہیں شریعت میں داخل نہیں ہوتے اس لئے متعہ کے احکام قرآن اور حدیث میں درج نہیں ہوئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے متعہ عرب میں نہ صرف جائز بلکہ
عام رواج رکھتا تھا اور شریعت اسلامی نے آہستہ آہستہ عرب کی رسوم کی تبدیلی کی ہے سو جس وقت بعض صحابہ متعہ کے لئے بیقرار ہوئے سو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظامی
اور اجتہادی طور پر اس رسم کے موافق بعض صحابہ کو اجازت دے دی کیونکہ قرآن میں ابھی اس رسم کے بارے میں کوئی ممانعت نہیں آئی تھی پھر ساتھ ہی چند روز کے بعد نکاح کی مفصل اور
مبسوط ہدایتیں قرآن میں نازل ہوئیں جو متعہ کے مخالف اور متضاد تھیں اس لئے ان آیات سے متعہ کی قطعی طور پر حرمت ثابت ہوگئی۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ گو متعہ صرف
تین