مسائل بھی بسط اور تفصیل سے لکھے جاتے لیکن کسی محقق پر پوشیدہ نہیں کہ نہ تو قرآن میں اور نہ احادیث میں ُ متعہ کے
مسائل کا نام و نشان ہے لیکن نکاح کے مسائل بسط اور تفصیل سے موجود ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہریک قوم میں جو ایک امر عامہ خلائق کے متعلق جائز یا واجب قرار دیا جاتا ہے تو اس امر کی بسط اور
تفصیل سے مسائل بھی بیان کئے جاتے ہیں مثلاً نیوگ جو ہندوؤں میں ایک امر واجب العمل ہے۔ تو ان کی کتابوں میں اس کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے مثلاً لکھا گیا ہے کہ نیوگ تین قسم پر ہے (۱) اول
بیوہ عورتوں کا نیوگ کیونکہ بیوہ کو وید کی رو سے نکاح کی اجازت نہیں اور یہ بھی وید کا مسئلہ ہے کہ نجات کے لئے اولاد کا حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے بیوہ کو نیوگ کی اجازت دی گئی اس
طرح پر کہ وہ اپنے دیور یا کسی برہمن سے ہم بستر ہو کر اولاد حاصل کرے (۲) دوسری قسم نیوگ کی یہ ہے کہ اگر کسی مرد کے گھر میں اولاد نہ ہو اور نہ اولاد ہونے کے آثار پائے جائیں تو
اسے چاہئے کہ اپنی عورت کو اولاد حاصل کرنے کے لئے دوسرے سے ہم بستر کراوے اور اس طرح سے اولاد حاصل کرے(۳) تیسری قسم نیوگ کی یہ ہے کہ اگر مثلاً مرد کہیں باہر نوکری پر گیا
ہو اور اس کو رخصت نہ مل سکے تو عورت کو روا ہے کہ دوسرے سے ہم بستر ہوکر اپنی شہوت کو فرو کرے اور ان تینوں قسموںؔ کے متعلق احکام بھی ہیں مثلاً
ایک یہ کہ جو عورت زندہ خاوند
والی اولاد کے لئے دوسرے سے ہم بستر ہو اس کو چاہئے کہ اپنے خاوند کو بھی خدمت سے محروم نہ رکھے اور اس کی خدمت کے لئے بھی جایا کرے۔
دوسرے وید مقدس کا یہ حکم ہے کہ جو
عورت کسی دوسرے سے ہم بستر ہو وہ اس آشنا کے گھر میں جاکر اس سے ہم بستر نہ ہو بلکہ چاہئے کہ اس آشنا کو اپنے خاوند کے گھر میں بلاوے اور اسی گھر میں اس سے ہم بستر ہو۔
تیسرے
یہ بھی لکھا ہے کہ مرد نیوگ کرنے والا اپنے بدن کو تیل مل لے یعنی عضو تناسل کو۔
چوتھے پنڈت دیانند نے وید کی رو سے یہ بھی تاکید کی ہے کہ نیوگ میں سخت صحبت نہ ہو۔
پانچویں یہ
قواعد بھی مقرر کر دئیے گئے ہیں کہ اتنے عرصہ میں اتنی مرتبہ صحبت ہو اس سے کم نہ ہو نہ اس سے زیادہ ہو اور اتنے بچے لئے جائیں اس سے زیادہ نہ ہوں۔