حاشیہؔ متعلقہ صفحہ ۴۳ ۱؂ آریہ دھرم آریہ لوگ جب اُس اعتراض کے وقت جو نیوگ پر وارد ہوتا ہے بالکل لاجواب اور عاجز ہو جاتے ہیں تو پھر انصاف اور خدا ترسی کی قوت سے کام نہیں لیتے۔ بلکہ اسلام کے مقابل پر نہایت مکروہ اور بے جا افتراؤں پر آجاتے ہیں۔ چنانچہ بعض تو مسئلہ طلاق کو ہی پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر ایسی آفات ہریک قوم کے لئے ہمیشہ ممکن الظہور ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں۔ مثلاً اگر کوئی عورت زانیہ ہو تو کس طرح اس کے خاوند کی غیرت اس کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر دن رات زناکاری کی حالت میں مشغول رہے۔ ایسا ہی اگر کسی کی جورو اس قدر دشمنی میں ترقی کرے کہ اس کی جان کی دشمن ہو جاوے اور اس کے مارنے کی فکر میں لگی رہے تو کیا وہ ایسی عورت سے امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے۔ بلکہ ایک غیرت مند انسان جب اپنی عورت میں اس قدر خرابی بھی دیکھے کہ اجنبی شہوت پرست اس کو پکڑتے ہیں اور اس کا بوسہ لیتے ہیں اور اس سے ہم بغل ہوتے ہیں اور وہ خوشی سے یہ سب کام کراتی ہے تو گو تحقیق کے رو سے ابھی زنا تک نوبت نہ پہنچی ہو بلکہ وہ فاسقہ موقع کے انتظار میں ہو۔ تاہم کوئی غیرت مند ایسی ناپاک خیال عورت سے نکاح کا تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ اگر آریہ کہیں کہ کیا حرج ہے کچھ مضائقہ نہیں تو ہم ان سے بحث کرنا نہیں چاہتے ہمارے مخاطب صرف وہ شریف ہیں جن کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے غیرت اور حیاء کا مادہ رکھا ہے اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ عورت کا جوڑا اپنے خاوند سے پاکدامنی اور فرماں برداری اور باہم رضامندی پر موقوف ہے اور اگر ان تین۳ باتوں میں سے کسی ایک بات میں بھی فرق آجاوے تو پھر یہ جوڑ قائم رہنا محالات میں سے ہو جاتا ہے انسان کی بیوی اس کے اعضاء کی طرح ہے۔ پس اگر کوئی عضو سڑ گل جائے یا ہڈی ایسی ٹوٹ جائے کہ قابل پیوند نہ ہو۔ تو پھر بجز کاٹنے کے اور کیا علاج ہے اپنے عضو کو اپنے ہاتھ سے کاٹنا کوئی نہیں چاہتا کوئی بڑی ہی مصیبت پڑتی ہے تب کاٹا جاتا ہے*۔ پس جس حکیم مطلق نے انسان کے مصالح لئے نکاح تجویز کیا ہے اور چاہا * نوٹ۔ خدا تعالیٰ نے جو ضرورتوں کے وقت میں مرد کو طلاق دینے کی اجازت دی اور کھول کر یہ نہ کہا کہ عورت کی زناکاری سے یا کسی اور بدمعاشی کے وقت اس کو طلاق دی جاوے اس میں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ستّاری نے چاہا کہ عورت کی تشہیر نہ ہو۔ اگر طلاق کے لئے زنا وغیرہ جرائم کا اعلان کیا جاتا تو لوگ سمجھتے کہ اس عورت پر کسی بدکاری کا شبہ ہے یا فلاں فلاں بدکاری کی قسموں میں سے ضرور اس نے کوئی بدکاری کی ہوگی مگر اب یہ راز خاوند تک محدود رہتا ہے۔